حدیث نمبر: 2468
أخبرنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المُزكِّي، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا إسحاق بن منصور، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثني محمد بن أبي الوضّاح، عن العلاء بن عبد الله بن رافع، عن حَنَان بن خارِجة، عن عبد الله بن عمرو، أنه قال: يا رسول الله، أخبرني عن الجهاد والغزو، فقال: "يا عبدَ الله بن عمرو، إن قاتلتَ صابرًا محتسِبًا، بَعثَكَ اللهُ صابرًا محتسِبًا، وإن قاتلتَ مُرائيًا مُكاثرًا، بَعَثَك الله مُرائيًا مُكاثرًا، يا عبدَ الله بن عمرو، على أيِّ حالٍ قاتلتَ أو قُتِلتَ، بَعَثَكَ اللهُ على تلك الحالِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ومحمد بن أبي الوضّاح هذا: هو أبو سعيد محمد بن مسلم بن أبي الوضاح المُؤدِّب، ثقةٌ مأمونٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2437 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے جہاد اور غزوے کے بارے میں بتائیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! اگر تم نے صبر کرتے ہوئے اور ثواب کی نیت سے قتال کیا تو اللہ تمہیں (قیامت کے دن) صبر کرنے والے اور ثواب پانے والے کی حیثیت سے اٹھائے گا، اور اگر تم نے دکھاوے اور فخر کے لیے قتال کیا تو اللہ تمہیں دکھاوا کرنے والے اور فخر کرنے والے کی حیثیت سے اٹھائے گا، اے عبداللہ بن عمرو! تم جس حال میں بھی قتال کرو گے یا قتل کیے جاؤ گے، اللہ تمہیں اسی حال پر اٹھائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور محمد بن ابی الوضاح یعنی ابو سعید محمد بن مسلم بن ابی الوضاح ثقہ اور مامون راوی ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2468
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة حنان بن خارجة على اختلاف في رفع الحديث ووقفه كما أوضحناه في "سنن أبي داود" (2519)، حيث أخرجه أبو داود عن مسلم بن حاتم الأنصاري، عن عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 2468] [ترقيم الشركة 2451] [ترقيم العلميه 2437]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لجهالة حنان بن خارجة على اختلاف في رفع الحديث ووقفه كما أوضحناه في "سنن أبي داود" (2519)، حيث أخرجه أبو داود عن مسلم بن حاتم الأنصاري، عن عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: حنان بن خارجہ کی جہالت اور اس کے "مرفوع و موقوف" ہونے کے اختلاف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔ اسے ابوداؤد نے بھی روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (2561) من طريق أحمد بن حنبل عن عبد الرحمن بن مهدي.
نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے نمبر (2561) پر امام احمد عن عبدالرحمن بن مہدی کے طریق سے آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2468 سے ماخوذ ہے۔