المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ صَادِقًا ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ ، فَلَهُ أَجْرُ الشَّهِيدِ باب: جس نے سچے دل سے اللہ سے شہادت مانگی، پھر وہ مر گیا یا قتل ہو گیا، اسے شہید کا اجر ملے گا۔
حدیث نمبر: 2442
حدَّثَناه علي بن عيسى الحِيْري، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد وعبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، قالا: حدثنا محمد بن عبد الله بن بَزِيْع، حدثنا: مُعتمِر بن سليمان، قال: سمعت أبي يحدِّث، عن أنس بن مالك، أنَّ نبي الله ﷺ قال: "مَن سألَ اللهَ القتلَ في سبيلِ الله صادقًا، ثم مات، أعطاهُ اللهُ أجرَ شهيدٍ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2411 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے سچے دل سے اللہ سے شہادت کا سوال کیا، پھر وہ فوت ہو گیا، تو اللہ اسے شہید کا اجر عطا فرمائے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن: هو ابن شيرويه النيسابوري، وسليمان: هو ابن طَرْخان.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عبداللہ بن محمد سے مراد ابن شیرویہ النیشاپوری اور سلیمان سے مراد ابن طرخان ہیں۔
وأخرجه مسلم (1908) من طريق ثابت بن أسلم، عن أنس، بلفظ: "من طلب الشهادة صادقًا أُعطيَها ولم لم تُصِبْه".
حوالہ / مصدر: امام مسلم (1908) نے ثابت بن اسلم عن انس کے طریق سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "جس نے سچائی کے ساتھ شہادت طلب کی، اسے وہ دے دی جائے گی اگرچہ اسے (زخم) نہ پہنچے"۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عبداللہ بن محمد سے مراد ابن شیرویہ النیشاپوری اور سلیمان سے مراد ابن طرخان ہیں۔
وأخرجه مسلم (1908) من طريق ثابت بن أسلم، عن أنس، بلفظ: "من طلب الشهادة صادقًا أُعطيَها ولم لم تُصِبْه".
حوالہ / مصدر: امام مسلم (1908) نے ثابت بن اسلم عن انس کے طریق سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "جس نے سچائی کے ساتھ شہادت طلب کی، اسے وہ دے دی جائے گی اگرچہ اسے (زخم) نہ پہنچے"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2442 سے ماخوذ ہے۔