حدیث نمبر: 2369
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب، حدثنا إسحاق بن أحمد الخَرَّاز بالرَّي، حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي، حدثنا المغيرة بن مُسلِم، عن يونس بن عُبيد، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إِنَّ اللهَ يحبُّ سَمْحَ البيعِ، سَمْحَ الشّراءِ، سَمْحَ القَضاءِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2338 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص کو پسند کرتا ہے جو بیچنے میں نرم ہو، خریدنے میں نرم ہو اور (اپنا حق یا قرض) وصول کرنے میں بھی نرمی اختیار کرے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2369
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه اختُلف فيه على يونس بن عبيد، كما بينه البخاري فيما سأله عنه الترمذي في "علله" (349)، وكذا فصّله الدارقطني في "العلل" (2048)، فمرة يُروى عنه، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة، ومرة يُروى عنه عمَّن حدثه عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة، والظاهر ...» [ترقيم الرساله 2369] [ترقيم الشركة 2351] [ترقيم العلميه 2338]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه اختُلف فيه على يونس بن عبيد، كما بينه البخاري فيما سأله عنه الترمذي في "علله" (349)، وكذا فصّله الدارقطني في "العلل" (2048)، فمرة يُروى عنه، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة، ومرة يُروى عنه عمَّن حدثه عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة، والظاهر أنَّ هذا هو المحفوظ، فلا تُعرف ليونس رواية عن سعيد المقبري، وقد روى عدة أحاديث بواسطة رجلٍ من أهل المدينة، كان يسميه أحيانًا محمدًا، عن سعيد المقبري، كما في "علل الدارقطني" (4042) و (4119)، ومحمد هذا مختلف فيه، رجح ابن عدي أنه محمد بن يعقوب المديني، وقال عنه: بعض حديثه فيه إنكار. ويونس بن عبيد ذكره النسائي بالتدليس، فالظاهر أنه كان يدلس ذكر هذا الرجل المدني أحيانًا.
درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرہ" ہے؛ اگرچہ اس کے راوی ثقہ ہیں مگر یونس بن عبید پر اس کی سند میں اختلاف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یونس بن عبید کا سماع سعید مقبری سے ثابت نہیں ہے، وہ غالباً ایک مبہم مدنی شخص کے واسطے سے تدلیس کرتے ہوئے روایت کرتے تھے، اس لیے اس میں ارسال پایا جاتا ہے۔
وأخرجه أبو نعيم الأصبهاني في "حديث يونس بن عبيد" (85) من طريق إبراهيم بن طهمان، عن يونس بن عبيد، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابو نعیم اصبہانی نے "حدیث یونس بن عبید" (85) میں ابراہیم بن طہمان کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وذكر البخاريُّ أنَّ إسماعيل ابن عُلَيَّة قد رواه كذلك عن يونس بن عبيد.
متابعات و شواہد: امام بخاری کے مطابق اسماعیل ابن علیہ نے بھی اسے یونس بن عبید سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وذكر الدارقطني أنَّ هُشَيمًا رواه عن يونس، واختُلف عليه، فمرة يُروى عنه، عن يونس، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة، ومرة يُروى عنه، عن يونس، عن رجل، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة.
فنی نکتہ / علّت: ہشیم کی روایت میں بھی اختلاف ہے، کبھی وہ اسے متصلاً اور کبھی ایک مبہم آدمی کے واسطے سے روایت کرتے ہیں۔
ثم ذكر أنَّ عبَّاد بن العوّام رواه عن يونس بن عبيد، عن رجل، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة.
فنی نکتہ / علّت: عباد بن عوام کی روایت میں بھی یونس اور سعید کے درمیان ایک نامعلوم شخص کا واسطہ موجود ہے۔
وروى أبو كريب محمد بن العلاء هذا الحديث عند الترمذي (1319) عن إسحاق بن سليمان الرازي، به. غير أنه ذكر الحسن البصري بدل سعيد المقبري. وقال الترمذي: غريب.
نوٹ / توضیح: ابو کریب کی روایت (ترمذی: 1319) میں سعید مقبری کی جگہ "حسن بصری" کا نام ہے، جسے امام ترمذی نے "غریب" قرار دیا ہے۔
وفي الباب عن جابر بن عبد الله عند البخاري (2076)، وابن ماجه (2203)، بلفظ: "رحم اللهُ رجلًا سَمْحًا إذا باع وإذا اشترى وإذا اقتضى"، زاد ابن حبان في روايته (4903): "سمحًا إذا قضى".

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص عند أحمد 11/ (6963)، بلفظ: "دخل رجل الجنة بسماحته، قاضيًا ومتقاضيًا"، وإسناده حسن.

مجموعی اصول / قاعدہ: اس باب میں حضرت جابر سے بخاری (2076) کی مشہور روایت ہے: "اللہ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے، خریدنے اور مطالبہ کرنے میں نرمی اختیار کرے"۔ حضرت عبداللہ بن عمرو سے بھی حسن سند کے ساتھ مروی ہے کہ نرمی کرنے والا شخص جنت میں داخل ہوا۔
وعن عثمان بن عفان نحوه من طرق أكثرها مرسل، عند أحمد 1/ (410) و (414) وغيره.
متابعات و شواہد: حضرت عثمان غنی سے بھی اسی طرح کی روایات مروی ہیں، جن میں سے اکثر "مرسل" ہیں (مسند احمد: 1/ 410)۔
وانظر حديث أبي هريرة السالف برقم (440).
نوٹ / توضیح: اس حوالے سے حضرت ابوہریرہ کی سابقہ روایت رقم (440) بھی دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2369 سے ماخوذ ہے۔