المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ باب: ہر نیکی صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 2343
حدَّثَناه أبو علي الحُسين بن محمد الصَّغَاني بمَرْو، حدثنا يحيى بن ساسَوَيهِ بن (1) عبد الكريم، حدثنا حامد بن آدم، حدثنا أبو عِصْمة، عن عبد الرحمن بن بُدَيل، عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَنِ استطاع منكم أن يَقِيَ دِينَه وعِرضَه بمالِه فليَفعَلْ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2312 - أبو عصمة هالكحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص اپنے مال کے ذریعے اپنے دین اور اپنی عزت کی حفاظت کر سکتا ہو، اسے ایسا ضرور کرنا چاہیے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في (ب) إلى: عن. وقد تقدم اسم يحيى بن ساسويه عند المصنف كذلك مقيدًا بابن عبد الكريم برقم (286) من روايته عن سويد بن نصر، وليحيى بن ساسويه رواية عن حامد بن آدم مباشرة، كما في "أنساب السمعاني" نسبة (التلياني)، وكذلك له رواية معروفة عن سويد بن نصر، كما وقع في عدة أحاديث. وإنما ذكرنا ذلك لئلا يُتوهَّم أن الصواب فيه في الموضعين: عن عبد الكريم، بذريعة أنَّ ليحيى بن ساسويه رواية معروفة عن عبد الكريم السُّكَّري، كما جاء في عدة أحاديث عند المصنف وعند البيهقي، وإنما استبعدنا ذلك بقرينة أخرى، وهي أنه ليس في شيء من تلك الأحاديث رواية لعبد الكريم السكري عن حامد بن آدم ولا عن سويد بن نصر، والله ولي التوفيق.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ب) میں لفظ "عن" کی تحریف ہوئی ہے۔ مصنف کے ہاں پہلے (نمبر 286) یحییٰ بن ساسوئے کا نام ابن عبد الکریم کی قید کے ساتھ گزر چکا ہے جو سوید بن نصر سے روایت کرتے ہیں۔
اہم نکتہ: یحییٰ بن ساسوئے کی براہِ راست حامد بن آدم سے بھی روایت ہے (جیسا کہ انسابِ سمعانی میں ہے)۔ یہ وضاحت اس لیے کی گئی تاکہ یہ وہم نہ ہو کہ یہاں "عن عبد الکریم" ہونا چاہیے تھا، کیونکہ عبد الکریم السکری کی حامد بن آدم یا سوید بن نصر سے کوئی روایت ثابت نہیں ہے۔
(2) إسناده واهٍ بمرة، بل موضوع، فإنَّ حامد بن آدم وأبا عصمة - وهو نوح بن أبي مريم، كلاهما متهم بالكذب في الحديث، وقال الحافظ: أخطأ الحاكم بتخريجه حديثَه في "مستدركه".
درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ترین کمزور (واہی بمرہ) بلکہ "موضوع" (من گھڑت) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے دو راوی حامد بن آدم اور ابو عصمہ (نوح بن ابی مریم) دونوں حدیث میں جھوٹ کے ساتھ متہم ہیں۔
نوٹ / توضیح: حافظ ابن حجر نے فرمایا ہے کہ امام حاکم سے اس حدیث کو اپنی کتاب "مستدرک" میں لانے میں چوک ہوئی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ب) میں لفظ "عن" کی تحریف ہوئی ہے۔ مصنف کے ہاں پہلے (نمبر 286) یحییٰ بن ساسوئے کا نام ابن عبد الکریم کی قید کے ساتھ گزر چکا ہے جو سوید بن نصر سے روایت کرتے ہیں۔
اہم نکتہ: یحییٰ بن ساسوئے کی براہِ راست حامد بن آدم سے بھی روایت ہے (جیسا کہ انسابِ سمعانی میں ہے)۔ یہ وضاحت اس لیے کی گئی تاکہ یہ وہم نہ ہو کہ یہاں "عن عبد الکریم" ہونا چاہیے تھا، کیونکہ عبد الکریم السکری کی حامد بن آدم یا سوید بن نصر سے کوئی روایت ثابت نہیں ہے۔
(2) إسناده واهٍ بمرة، بل موضوع، فإنَّ حامد بن آدم وأبا عصمة - وهو نوح بن أبي مريم، كلاهما متهم بالكذب في الحديث، وقال الحافظ: أخطأ الحاكم بتخريجه حديثَه في "مستدركه".
درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ترین کمزور (واہی بمرہ) بلکہ "موضوع" (من گھڑت) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے دو راوی حامد بن آدم اور ابو عصمہ (نوح بن ابی مریم) دونوں حدیث میں جھوٹ کے ساتھ متہم ہیں۔
نوٹ / توضیح: حافظ ابن حجر نے فرمایا ہے کہ امام حاکم سے اس حدیث کو اپنی کتاب "مستدرک" میں لانے میں چوک ہوئی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2343 سے ماخوذ ہے۔