المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
مَنْ طَلَبَ حَقًّا فَلْيَطْلُبْ فِي عَفَافٍ باب: جو اپنا حق مانگے وہ شرافت اور حیا کے ساتھ مانگے۔
سمعتُ أبا عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ وقيل له: سمعتَ الحسن بن سفيان يقول: سمعتُ حرملة بن يحيى يقول: سمعتُ الشافعي يقول: إن صحَّ حديث بَرْوَعَ بنتِ واشِقٍ قلتُ به. فقال أبو عبد الله: لو حضرتُ الشافعيَّ رضي الله عنه لقمتُ على رؤوس أصحابه، وقلتُ: فقد صحَّ الحديثُ، فقُلْ به. قال الحاكم: فالشافعي إنما قال: لو صحَّ الحديثُ، لأنَّ هذه الرواية وإن كانت صحيحةً فإنَّ الفتوى فيه لعبد الله بن مسعود، وسنَدُ الحديث لِنَفَر من أشجَعَ، وشيخُنا أبو عبد الله رحمه الله إنما حَكَمَ بصحّة الحديث لأنَّ الثقة قد سمَّى فيه رجلًا من الصحابة، وهو مَعقِلُ بن سِنان الأشجعي. وبصحة ما ذكرتُه:
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے ابوعبداللہ محمد بن یعقوب حافظ کو فرماتے ہوئے سنا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا والی حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو میں اسی کے مطابق قول اختیار کر لوں گا“، اس پر ابوعبداللہ نے کہا: اگر میں امام شافعی رحمہ اللہ کے سامنے ہوتا تو میں کھڑے ہو کر عرض کرتا کہ یہ حدیث تو صحیح ثابت ہو چکی ہے، لہٰذا اب آپ اسے اپنا قول بنا لیں؛ امام حاکم فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس لیے احتیاط کی تھی کیونکہ فتویٰ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مشہور تھا، مگر ہمارے شیخ ابوعبداللہ رحمہ اللہ نے اس کے صحیح ہونے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ ثقہ راوی نے اس میں صحابیِ رسول معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ کا نام صراحت سے ذکر کیا ہے۔