المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
مَنْ طَلَبَ حَقًّا فَلْيَطْلُبْ فِي عَفَافٍ باب: جو اپنا حق مانگے وہ شرافت اور حیا کے ساتھ مانگے۔
حدَّثَناه أبو الوليد الفقيه، حدثنا إبراهيم بن محمد بن يزيد المروَزي، حدثنا أبو عمار الحسين بن حُريث، حدثنا الفضل بن موسى، حدثنا خُثَيم بن عِراك بن مالك، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: لما خَرَج رسولُ الله ﷺ إلى خيبرَ استخلَفَ سِباعَ بن عُرْفُطة الغِفاري، فقَدِمنا فشهدنا معه صلاةَ الصبح، فقرأ في أول ركعة ﴿كهيعص﴾، وفي الثانية ﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ﴾، فقلت في نفسي: ويلٌ لأبي فلانٍ، له مِكيالان، يَستَوفي بواحِدٍ ويَبْخَسُ بآخَرَ، فأتَينا سِباعَ بن عُرْفُطة فجهَّزَنا، فأتينا رسولَ الله ﷺ قبلَ الفتحِ بيومٍ أو بعدَه بيوم (2).
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ خیبر کے لیے روانہ ہوئے تو آپ ﷺ نے سباع بن عرفطہ غفاری رضی اللہ عنہ کو (مدینہ میں) اپنا قائم مقام مقرر فرمایا، ہم جب وہاں پہنچے تو ان کے ساتھ نمازِ فجر میں شریک ہوئے، انہوں نے پہلی رکعت میں سورہ ﴿مريم﴾ ﴿كهيعص﴾ اور دوسری میں ﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ﴾ [سورة المطففين: 1] کی تلاوت کی، تو میں نے اپنے دل میں کہا: ہلاکت ہو فلاں شخص کے لیے جس کے پاس دو پیمانے ہیں، ایک سے (لیتے وقت) پورا بھر کر لیتا ہے اور دوسرے سے (دیتے وقت) گھٹا دیتا ہے، پھر ہم سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہوں نے ہمیں رخصت کیا، پھر ہم فتحِ خیبر سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد 14/ (8552) من طريق وهيب بن خالد، عن خثيم بن عراك، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (14/ 8552) نے خثیم بن عراک کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (7156) من طريق عثمان بن أبي سليمان، عن عِراك بن مالك، به، مختصرًا.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (7156) نے عراک بن مالک کی سند سے مختصراً روایت کیا ہے۔
وسيأتي ذكر استخلاف سباع بن عرفطة على المدينة برقم (4384) من طريق الحسين بن محمد
القباني عن الحسين بن حريث.
متابعات و شواہد: سباع بن عرفطہ کو مدینہ کا خلیفہ بنانے کا ذکر آگے نمبر (4384) پر آئے گا۔