❮
❯
حدیث نمبر: 2272
حدَّثَناه أبو الوليد الفقيه، حدثنا إبراهيم بن محمد بن يزيد المروَزي، حدثنا أبو عمار الحسين بن حُريث، حدثنا الفضل بن موسى، حدثنا خُثَيم بن عِراك بن مالك، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: لما خَرَج رسولُ الله ﷺ إلى خيبرَ استخلَفَ سِباعَ بن عُرْفُطة الغِفاري، فقَدِمنا فشهدنا معه صلاةَ الصبح، فقرأ في أول ركعة ﴿كهيعص﴾، وفي الثانية ﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ﴾، فقلت في نفسي: ويلٌ لأبي فلانٍ، له مِكيالان، يَستَوفي بواحِدٍ ويَبْخَسُ بآخَرَ، فأتَينا سِباعَ بن عُرْفُطة فجهَّزَنا، فأتينا رسولَ الله ﷺ قبلَ الفتحِ بيومٍ أو بعدَه بيوم (2).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ خیبر کے لیے روانہ ہوئے تو آپ ﷺ نے سباع بن عرفطہ غفاری رضی اللہ عنہ کو (مدینہ میں) اپنا قائم مقام مقرر فرمایا، ہم جب وہاں پہنچے تو ان کے ساتھ نمازِ فجر میں شریک ہوئے، انہوں نے پہلی رکعت میں سورہ ﴿مريم﴾ ﴿كهيعص﴾ اور دوسری میں ﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ﴾ [سورة المطففين: 1] کی تلاوت کی، تو میں نے اپنے دل میں کہا: ہلاکت ہو فلاں شخص کے لیے جس کے پاس دو پیمانے ہیں، ایک سے (لیتے وقت) پورا بھر کر لیتا ہے اور دوسرے سے (دیتے وقت) گھٹا دیتا ہے، پھر ہم سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہوں نے ہمیں رخصت کیا، پھر ہم فتحِ خیبر سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے۔

سمعتُ أبا عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ وقيل له: سمعتَ الحسن بن سفيان يقول: سمعتُ حرملة بن يحيى يقول: سمعتُ الشافعي يقول: إن صحَّ حديث بَرْوَعَ بنتِ واشِقٍ قلتُ به. فقال أبو عبد الله: لو حضرتُ الشافعيَّ رضي الله عنه لقمتُ على رؤوس أصحابه، وقلتُ: فقد صحَّ الحديثُ، فقُلْ به. قال الحاكم: فالشافعي إنما قال: لو صحَّ الحديثُ، لأنَّ هذه الرواية وإن كانت صحيحةً فإنَّ الفتوى فيه لعبد الله بن مسعود، وسنَدُ الحديث لِنَفَر من أشجَعَ، وشيخُنا أبو عبد الله رحمه الله إنما حَكَمَ بصحّة الحديث لأنَّ الثقة قد سمَّى فيه رجلًا من الصحابة، وهو مَعقِلُ بن سِنان الأشجعي. وبصحة ما ذكرتُه:
حافظ طلحہ بابر

امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے ابوعبداللہ محمد بن یعقوب حافظ کو فرماتے ہوئے سنا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا والی حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو میں اسی کے مطابق قول اختیار کر لوں گا“، اس پر ابوعبداللہ نے کہا: اگر میں امام شافعی رحمہ اللہ کے سامنے ہوتا تو میں کھڑے ہو کر عرض کرتا کہ یہ حدیث تو صحیح ثابت ہو چکی ہے، لہٰذا اب آپ اسے اپنا قول بنا لیں؛ امام حاکم فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس لیے احتیاط کی تھی کیونکہ یہ روایت اگرچہ صحیح ہے لیکن اس میں فتویٰ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہے اور حدیث کی سند قبیلہ اشجع کے چند لوگوں سے ہے، مگر ہمارے شیخ ابوعبداللہ رحمہ اللہ نے اس کے صحیح ہونے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ ثقہ راوی نے اس میں صحابیِ رسول معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ کا نام صراحت سے ذکر کیا ہے۔

حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب : البيوع / حدیث: 2272
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2272] [ترقيم الشركة 2254]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد 14/ (8552) من طريق وهيب بن خالد، عن خثيم بن عراك، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (14/ 8552) نے خثیم بن عراک کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (7156) من طريق عثمان بن أبي سليمان، عن عِراك بن مالك، به، مختصرًا.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (7156) نے عراک بن مالک کی سند سے مختصراً روایت کیا ہے۔
وسيأتي ذكر استخلاف سباع بن عرفطة على المدينة برقم (4384) من طريق الحسين بن محمد

القباني عن الحسين بن حريث.

متابعات و شواہد: سباع بن عرفطہ کو مدینہ کا خلیفہ بنانے کا ذکر آگے نمبر (4384) پر آئے گا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2272 سے ماخوذ ہے۔