المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
لَوْ قُتِلَ رَجُلٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ عَاشَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يُقْضَى دَيْنُهُ باب: اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے، پھر زندہ ہو اور اس پر قرض ہو تو جب تک قرض ادا نہ ہو جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 2247
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سُليمان، حدثنا عبد الله بن وهب قال: سمعتُ حَيْوةَ بن شُريح يحدِّث عن بكر بن عمرو المَعَافِري، عن شعيب بن زُرْعة، عن عُقْبة بن عامر الجُهَني أنه قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقولُ لأصحابه: "لا تُخِيفُوا أنفُسَكم" فقيل: يا رسول الله، وما نُخِيفُ أنفُسَنا؟ قال: "بالدَّينِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2216 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے صحابہ سے فرماتے سنا: ”تم اپنی جانوں کو خوفزدہ نہ کرو۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنی جانوں کو کیسے خوفزدہ کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قرض کے ذریعے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل بكر بن عمرو المعافري وشعيب بن زُرعة.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند بکر بن عمرو اور شعیب بن زرعہ کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17407) عن عبد الله بن يزيد المقرئ، عن حيوة بن شريح، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (28/ 17407) نے عبد اللہ بن یزید المقرئ عن حیوہ بن شریح کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا (17320) من طريق رشدين بن سعْد، عن بكر بن عمرو، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے رشدین بن سعد کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند بکر بن عمرو اور شعیب بن زرعہ کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17407) عن عبد الله بن يزيد المقرئ، عن حيوة بن شريح، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (28/ 17407) نے عبد اللہ بن یزید المقرئ عن حیوہ بن شریح کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا (17320) من طريق رشدين بن سعْد، عن بكر بن عمرو، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے رشدین بن سعد کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2247 سے ماخوذ ہے۔