حدیث نمبر: 2235
حدَّثَناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا جَرير. وحدثنا الأستاذ أبو الوليد الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جرير، عن منصور، عن زياد بن عمرو بن هند، عن عِمران بن حذيفة، عن ميمونة: أنها كانت تَدّانُ، فتُكثِر، فقيل لها في ذلك، فقالت: لا أدَعُ الدَّين، لأنَّ له من اللهِ عونًا، فأنا ألتمِسُ ذلك العَونَ (2).
حافظ طلحہ بابر

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ کثرت سے قرض لیا کرتی تھیں، جب ان سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں قرض لینا نہیں چھوڑوں گی کیونکہ اس پر اللہ کی طرف سے مدد حاصل ہوتی ہے، اور میں اسی مدد کی جستجو میں رہتی ہوں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2235
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زياد بن عمرو بن هند، وعمران بن حذيفة، ثم الأشبهُ أنه عن عمران بن حذيفة أنَّ ميمونة كانت تدّان، يعني مرسلًا، كما نبَّه عليه الدارقطني في "العلل" (4016)، وقد اختُلف فيه على منصور كما سيأتي بيانه، وجميع من رواه عن ميمونة غير الحاكم رفع آخره.» [ترقيم الرساله 2235] [ترقيم الشركة 2217]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زياد بن عمرو بن هند، وعمران بن حذيفة، ثم الأشبهُ أنه عن عمران بن حذيفة أنَّ ميمونة كانت تدّان، يعني مرسلًا، كما نبَّه عليه الدارقطني في "العلل" (4016)، وقد اختُلف فيه على منصور كما سيأتي بيانه، وجميع من رواه عن ميمونة غير الحاكم رفع آخره.
حکم / درجۂ حدیث: حدیث "صحیح" ہے، مگر یہ سند زیاد بن عمرو اور عمران بن حذیفہ کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے
علّت / فنی نکتہ: قرینِ قیاس یہ ہے کہ یہ عمران بن حذیفہ سے مرسل روایت ہے کہ میمونہ قرض لیا کرتی تھیں، جیسا کہ دارقطنی نے "العلل" (4016) میں تنبیہ کی ہے، اور حاکم کے علاوہ تمام راویوں نے اسے موقوف روایت کیا ہے۔
أبو الوليد الطيالسي: هو هشام بن عبد الملك، وجرير: هو ابن عبد الحميد، ومنصور: هو ابن المعتمر.
توضیح: ابوالولید الطیالسی سے مراد ہشام بن عبد الملک، جریر سے مراد ابن عبد الحمید اور منصور سے مراد ابن المعتمر ہیں۔
وأخرجه النسائي (6239) عن محمد بن قدامة، وابن حبان (5041) من طريق زهير بن حرب، كلاهما عن جرير، عن منصور، عن زياد بن عمرو، عن عمران بن حذيفة، قال: كانت ميمونة تدّان، الحديث مرسلًا مرفوعًا آخره.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (6239) اور ابن حبان (5041) نے جریر عن منصور کی سند سے روایت کیا ہے، یہ روایت مرسل ہے لیکن اس کا آخری حصہ مرفوع (نبی ﷺ کا فرمان) ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2408) من طريق عبيدة بن حميد، عن منصور، به. فوصله ورفع آخره.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2408) نے عبیدہ بن حمید عن منصور کے طریق سے روایت کیا ہے، انہوں نے اسے متصل کیا ہے اور آخری حصہ مرفوع بیان کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 44/ (26816) و (26840) من طريق جعفر بن زياد، عن منصور، عن سالم بن أبي الجعد، عن ميمونة مرفوعًا آخره أيضًا. وسالم بن أبي الجعد قد روى حديثًا لميمونة في "الصحيحين" وغيرهما بواسطة كريب عن ابن عباس عنها، وهذا يعني أنه لم يدركها، والله أعلم.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (44/ 26816) میں سالم بن ابی الجعد کے طریق سے مرفوعاً روایت کیا ہے
علّت / فنی نکتہ: سالم بن ابی الجعد نے میمونہ کی حدیث صحیحین میں کریب کے واسطے سے روایت کی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان کا میمونہ سے براہِ راست سماع نہیں ہے۔
وأخرجه النسائي (6240) من طريق عبيد الله بن عبد الله بن عتبة: أنَّ ميمونة استدانت، هكذا رواه مرسلًا أيضًا ومرفوعًا آخره، ورجاله ثقات، وقد روي موصولًا، لكن قال الدارقطني في "العلل" (4019): المرسل أشبه.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (6240) نے عبید اللہ بن عبد اللہ کے طریق سے مرسل روایت کیا ہے
علّت / فنی نکتہ: دارقطنی کے مطابق اس کا "مرسل" ہونا ہی زیادہ صحیح (اشبہ) ہے۔
قلنا: وباجتماع هذه الطرق يصح الحديث إن شاء الله تعالى، فتكون ميمونة وعائشة كلتاهما كانتا تدَّانان وترويان هذا الحديث، والله أعلم بالصواب.
اہم نکتہ: ان تمام طرق کے مجموعے سے یہ حدیث ان شاء اللہ صحیح قرار پاتی ہے، ثابت ہوتا ہے کہ میمونہ اور عائشہ دونوں قرض لیا کرتی تھیں اور یہ حدیث روایت کرتی تھیں، واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2235 سے ماخوذ ہے۔