حدیث نمبر: 222
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابق الخَولاني، حدثنا بشر بن بكر، حدثني ابن جابر قال: سمعت سُليم بن عامر يقول: سمعت عوف بن مالك الأشجعيَّ يقول: نَزَلْنا مع رسول الله ﷺ منزلًا فاستيقظتُ من الليل، فإذا لا أرى شيئًا أطول من مُؤخرة رَحْلي، قد لَصِقَ كلُّ إنسان وبعيرُه بالأرض، فقمتُ أتخلَّلُ الناس حتى دفعتُ إلى مضجع رسول الله ﷺ، فإذا هو ليس فيه، فوضعتُ يدي على الفراش فإذا هو باردٌ، فخرجتُ أتخلَّلُ الناس وأقول: إنا لله وإنا إليه راجعون، ذُهِبَ برسول الله ﷺ، حتى خرجتُ من العسكر كلِّه، فنظرتُ سَوَادًا فمضيتُ فرميتُ بحجر فمضيتُ إلى السواد، فإذا معاذُ بن جبل وأبو عُبيدة بن الجرَّاح وإذا بين أيدينا صوت كدَوِيِّ الرَّحَا أو كصوت القصباء (1) حين يصيبها الريح، فقال بعضنا لبعض: يا قوم اثبتُوا حتى تُصبحوا أو يأتيكم رسول الله ﷺ، فَلَبِثْنا ما شاء الله ثم نادى: "أَثَمَّ معاذُ بن جبلٍ وأبو عُبيدة وعوفُ بن مالك؟ " فقلنا: نعم، فأقبل إلينا، فخَرَجْنا لا نسألُه عن شيء ولا يُخبِرُنا حتى قَعَدَ على فراشه فقال: "أتدري ما خيّرني به ربي الليلة؟ " فقلنا: الله ورسوله أعلم، قال: "فإنَّه خيَّرني بين أن يُدخِلَ نصفَ أُمتي الجنةَ وبين الشفاعةِ، فاخترتُ الشفاعةَ" فقلنا: يا رسول الله، ادعُ اللهَ أن يجعلنا من أهلها، قال: "هي لكلِّ مُسلِمٍ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بسُليم بن عامر، وأما سائرُ رواته فمتَّفَقٌ عليهم، ولم يُخرجاه. وقد رواه سعيد بن أبي عَرُوبة وهشام بن سَنبَر، عن قتادة، عن أبي المليح، عن عوف بن مالك. أما حديث سعيد:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک منزل پر اترے، میں رات کے وقت بیدار ہوا تو مجھے اپنی سواری کے کجاوے کے پچھلے حصے سے لمبی کوئی چیز نظر نہ آئی (یعنی ہر چیز اندھیرے میں ڈوبی تھی)، ہر انسان اور اونٹ زمین سے چمٹ کر سو رہا تھا۔ میں لوگوں کے درمیان سے راستہ بناتا ہوا آگے بڑھا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے بستر تک پہنچ گیا، لیکن آپ ﷺ وہاں موجود نہ تھے۔ میں نے بستر پر ہاتھ رکھا تو وہ ٹھنڈا تھا (یعنی آپ کو گئے وقت گزر چکا تھا)۔ میں لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھنے لگا کہ رسول اللہ ﷺ کہیں (دشمن کے ذریعے) لے تو نہیں جائے گئے۔ یہاں تک کہ میں پورے لشکر سے باہر نکل گیا، وہاں مجھے ایک سیاہی (سایہ) نظر آئی، میں نے اس کی طرف ایک پتھر پھینکا اور اس کی جانب بڑھا، تو وہاں سیدنا معاذ بن جبل اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہما موجود تھے۔ ہمارے سامنے سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے چکی چلنے کی آواز ہو یا جیسے سرکنڈوں کے جھنڈ سے ہوا گزرنے کی آواز آتی ہے۔ ہم نے ایک دوسرے سے کہا: اے لوگو! یہیں جمے رہو یہاں تک کہ صبح ہو جائے یا رسول اللہ ﷺ تمہارے پاس خود تشریف لے آئیں۔ ہم جتنا اللہ نے چاہا وہاں ٹھہرے رہے، پھر آواز آئی: ”کیا وہاں معاذ بن جبل، ابوعبیدہ اور عوف بن مالک ہیں؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ سے کچھ نہ پوچھا اور نہ آپ نے ہمیں کچھ بتایا یہاں تک کہ آپ اپنے بستر پر تشریف فرما ہوئے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ آج رات میرے رب نے مجھے کیا اختیار دیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے مجھے اس بات میں اختیار دیا ہے کہ یا تو میری آدھی امت جنت میں داخل کر دی جائے یا پھر مجھے شفاعت کا حق دے دیا جائے، تو میں نے شفاعت کو چن لیا۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ ہمیں شفاعت پانے والوں میں شامل کر دے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ شفاعت ہر (موحد) مسلم کے لیے ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے سلیم بن عامر سے احتجاج کیا ہے، اور باقی تمام راویوں پر (شیخین کا) اتفاق ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 222
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وقد سلف برقم (36)» [ترقيم الرساله 222] [ترقيم الشركة 221]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: الهضباء، ولا معنى لها هنا، والصواب ما أثبتناه، وقد سلف على الصواب في الحديث رقم (36).
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں لفظ "الہضباء" لکھا ہوا ہے جس کا یہاں کوئی (درست) مفہوم نہیں بنتا، صحیح وہی ہے جو ہم نے متن میں درج کیا ہے اور یہ لفظ پہلے بھی حدیث نمبر (36) میں اپنی درست شکل میں گزر چکا ہے۔
(2) إسناده صحيح. وقد سلف برقم (36).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
اہم نکتہ: یہ روایت پہلے بھی نمبر (36) کے تحت گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 222 سے ماخوذ ہے۔