المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ باب: نیکی اچھا اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے۔
حدیث نمبر: 2203
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله بن المبارك، أخبرنا أسامة بن زيد، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده: أنَّ رسول الله ﷺ تَضَوَّرَ ذاتَ ليلةٍ، فقيل له: ما أسهَرَك؟ قال: "إني وَجدتُ تمرةً ساقِطةً فأكلتُها، ثم ذَكَرتُ تمرًا كان عندنا من تمر الصَّدقة، فما أدري أمِن ذلك كانتِ التمرةُ، أو من تمرِ أهلي، فذلك أسْهَرَني" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2173 - صحيححافظ طلحہ بابر
عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ بہت بے چین رہے، آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: کس چیز نے آپ کو بیدار رکھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے ایک گری ہوئی کھجور ملی تو میں نے اسے کھا لیا، پھر مجھے یاد آیا کہ ہمارے پاس صدقے کی کھجوریں بھی تھیں، اب میں نہیں جانتا کہ وہ کھجور انہی میں سے تھی یا میرے گھر کی کھجوروں میں سے، پس اسی بات نے مجھے بیدار رکھا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري المروَزي، وعَبْدان: هو عبد الله بن عثمان بن جبلة المروَزي، وعبدان لقبُه.
حکم / درجۂ حدیث: اسامہ بن زید لیثی کی وجہ سے یہ سند
حسن ہے۔ عبدان اور ابو الموجہ مروزی ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 11/ (6720) عن أبي بكر الحنفي، و (6820) عن وكيع، كلاهما عن أسامة بن زيد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے ابوبکر الحنفی اور وکیع کی سند سے روایت کیا ہے۔
تَضَوَّر: أي: تَلَوَّى وتَقَلَّب ظهرًا لبطن.
لغوی تشریح:
"تضور" کا مطلب ہے بھوک یا تکلیف سے تڑپنا، لوٹ پوٹ ہونا اور پہلو بدلنا۔
حکم / درجۂ حدیث: اسامہ بن زید لیثی کی وجہ سے یہ سند
حسن ہے۔ عبدان اور ابو الموجہ مروزی ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 11/ (6720) عن أبي بكر الحنفي، و (6820) عن وكيع، كلاهما عن أسامة بن زيد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے ابوبکر الحنفی اور وکیع کی سند سے روایت کیا ہے۔
تَضَوَّر: أي: تَلَوَّى وتَقَلَّب ظهرًا لبطن.
لغوی تشریح:
"تضور" کا مطلب ہے بھوک یا تکلیف سے تڑپنا، لوٹ پوٹ ہونا اور پہلو بدلنا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2203 سے ماخوذ ہے۔