المستدرك على الصحيحين
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل
زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ باب: قرآن کو اپنی آوازوں سے خوبصورت بناؤ۔
حدیث نمبر: 2142
فأخبرَناه أبو الفضل الحسن بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا سعيد بن زَرْبيّ، عن حمّاد، عن طَلْحة الهَمْداني، عن عبد الرحمن بن عَوْسَجة، عن البراء قال: كان رسول الله ﷺ يأتينا إذا أُقيمتِ الصلاةُ، فيمسحُ عَواتِقَنا ويقول: "أقيمُوا صفوفَكم، ولا تختلفوا فتختلفَ قلوبُكم، ولِيليَنِّي منكم أولُو الأحلامِ والنُّهى، وزيِّنوا القرآنَ بأصواتِكم، إنَّ الله وملائكتَه يُصلُّون على الصفّ المقدَّم" (1). وأما حديث فِطْر بن خَليفة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نماز قائم کی جاتی تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لاتے، ہمارے کندھوں پر ہاتھ پھیرتے اور فرماتے: ”اپنی صفیں سیدھی رکھو، اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا، تم میں سے عقل مند اور سمجھدار لوگ میرے قریب رہیں، اور اپنی آوازوں کے ساتھ قرآن کو مزین کرو، بے شک اللہ اور اس کے فرشتے اگلی صف پر رحمت بھیجتے ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح دون قوله: "وليلينِّي منكم أولو الأحلام والنُّهى"، فقد انفرد بزيادته في حديث البراء سعيدُ بنُ زَربي عن حماد بن أبي سليمان، وسعيد هذا ضعيف الحديث، إلَّا أنَّ هذا الحرف قد صحَّ من حديث أبي مسعود البدري عند مسلم برقم (432) (122)، ومن حديث عبد الله بن مسعود عند مسلم أيضًا برقم (432) (123)، وسيأتي حديث ابن مسعود برقم (2179).
استثناء: حدیث
صحیح ہے، مگر "تم میں سے سمجھدار لوگ میرے قریب کھڑے ہوں" کے الفاظ اس سند (براء بن عازب) میں شاذ ہیں کیونکہ سعید بن زربی ضعیف ہے۔ البتہ یہ الفاظ دیگر صحیح احادیث (ابو مسعود اور ابن مسعود) سے مسلم میں ثابت ہیں۔
استثناء: حدیث
صحیح ہے، مگر "تم میں سے سمجھدار لوگ میرے قریب کھڑے ہوں" کے الفاظ اس سند (براء بن عازب) میں شاذ ہیں کیونکہ سعید بن زربی ضعیف ہے۔ البتہ یہ الفاظ دیگر صحیح احادیث (ابو مسعود اور ابن مسعود) سے مسلم میں ثابت ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2142 سے ماخوذ ہے۔