المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
قِصَّةُ خُرِوجِ عُمَرَ إِلَى الشَّامِ ، وَقَوْلُهُ : إِنَّا قَوْمٌ أَعَزَّنَا اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ ، فَلَنْ نَبْتَغِيَ الْعِزَّةَ بِغَيْرِهِ باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا شام کی طرف روانہ ہونا اور فرمانا: ہم وہ قوم ہیں جنہیں اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت بخشی، ہم کسی اور ذریعے سے عزت نہیں چاہیں گے۔
حدیث نمبر: 209
حدَّثناه علي بن حَمْشَاذَ العدلُ، حدثنا محمد بن عيسى بن السَّكن الواسطي، حدثنا عمرو بن عَوْن، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن قيس بن مُسلِم، عن طارق بن شِهَاب قال: لمّا قَدِمَ عمرُ الشامَ، لَقِيَه الجنودُ وعليه إزارٌ وخُفَّانِ وعِمامة، وهو آخذٌ برأس بعيره يخوضُ الماء، فقال له -يعني قائل-: يا أمير المؤمنين، تَلْقاكَ الجنودُ وبَطارِقةُ الشام وأنت على حالك هذه؟! فقال عمر: إنا قومٌ أعزنا الله بالإسلام، فلن نبتغي العِزَّ بغيره (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 208 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام پہنچے تو (استقبال کے لیے) لشکر ان سے ملا، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک تہبند، موزوں اور عمامے میں ملبوس تھے اور اپنے اونٹ کی نکیل پکڑ کر اسے پانی میں سے گزار رہے تھے، تو کسی کہنے والے نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ سے لشکر اور شام کے بڑے سردار (بطارقہ) ملاقات کر رہے ہیں اور آپ اس حال میں ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک ہم وہ قوم ہیں جنہیں اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت بخشی ہے، لہٰذا ہم اسلام کے سوا کسی اور چیز میں ہرگز عزت تلاش نہیں کریں گے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. أبو معاوية هو محمد بن خازم الضرير، والأعمش: هو سليمان بن مهران.
وأخرجه ابن أبي شيبة في "المصنف" 13/ 41 و 263، وهناد في "الزهد" (817) عن أبي معاوية، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابومعاویہ سے مراد "محمد بن خازم الضریر" اور الاعمش سے مراد "سلیمان بن مہران" ہیں۔
حوالہ: اسے ابن ابی شیبہ اور ہناد بن السری نے بھی ابومعاویہ کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة في "المصنف" 13/ 41 و 263، وهناد في "الزهد" (817) عن أبي معاوية، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابومعاویہ سے مراد "محمد بن خازم الضریر" اور الاعمش سے مراد "سلیمان بن مہران" ہیں۔
حوالہ: اسے ابن ابی شیبہ اور ہناد بن السری نے بھی ابومعاویہ کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 209 سے ماخوذ ہے۔