المستدرك على الصحيحين
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل
أَخْبَارٌ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ باب: سورۂ بقرہ اور آلِ عمران کی فضیلت سے متعلق روایات۔
حدیث نمبر: 2081
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وأبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، قالا: حدثنا محمد بن أحمد بن النضر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، عن حَكيم بن جُبير، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ لكل شيءٍ سَنَامًا، وإنَّ سنامَ القرآن سورةُ البقرة" (1). رواه سفيان بن عيينة عن حَكيم بن جبير بزيادة فيه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے، اور قرآن کی چوٹی سورہ بقرہ ہے۔“ سفیان بن عیینہ نے حکیم بن جبیر سے یہ روایت کچھ اضافے کے ساتھ بیان کی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، حكيم بن جبير ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواهد كما تقدم بيانه برقم (1495)، ولحديثه هذا ما يشهد له كما سيأتي بيانه. زائدة: هو ابن قُدامة، وأبو صالح: هو ذكوان السمّان.
حکم / درجۂ حدیث: یہ "حسن لغیرہ" ہے۔ حکیم بن جبیر ضعیف ہے مگر متابعات میں اسے قبول کیا جاتا ہے۔ زائدہ سے مراد ابن قدامہ اور ابو صالح سے ذکوان السمان مراد ہیں۔
وأخرجه الترمذي (2878) من طريق حسين بن علي الجُعفي، عن زائدة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام ترمذی نے اسے حسین بن علی الجعفی عن زائدہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيتكرر من طريق أبي بكر بن بالَوَيهِ وحده برقم (3064).
تکرار: یہ روایت دوبارہ نمبر (3064) پر ابوبکر بن بالویہ کے طریق سے آئے گی۔
ويشهد له حديث عبد الله بن مسعود الآتي برقم (2083) و (2084) موقوفًا ومرفوعًا.
متابعات و شواہد: ابن مسعود کی موقوف و مرفوع روایات (2083، 2084) اس کی شاہد ہیں۔
وحديث معقل بن يسار عند أحمد 33/ (20300) وغيره، وإسناده ضعيف.
متابعات و شواہد: معقل بن یسار کی روایت بھی موجود ہے مگر اس کی سند ضعیف ہے۔
وحديث سهل بن سعد عند ابن حبان (780) وغيره، وإسناده ضعيف كذلك.
متابعات و شواہد: سہل بن سعد کی روایت بھی ابن حبان کے ہاں ہے، لیکن وہ بھی ضعیف ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: یہ "حسن لغیرہ" ہے۔ حکیم بن جبیر ضعیف ہے مگر متابعات میں اسے قبول کیا جاتا ہے۔ زائدہ سے مراد ابن قدامہ اور ابو صالح سے ذکوان السمان مراد ہیں۔
وأخرجه الترمذي (2878) من طريق حسين بن علي الجُعفي، عن زائدة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام ترمذی نے اسے حسین بن علی الجعفی عن زائدہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيتكرر من طريق أبي بكر بن بالَوَيهِ وحده برقم (3064).
تکرار: یہ روایت دوبارہ نمبر (3064) پر ابوبکر بن بالویہ کے طریق سے آئے گی۔
ويشهد له حديث عبد الله بن مسعود الآتي برقم (2083) و (2084) موقوفًا ومرفوعًا.
متابعات و شواہد: ابن مسعود کی موقوف و مرفوع روایات (2083، 2084) اس کی شاہد ہیں۔
وحديث معقل بن يسار عند أحمد 33/ (20300) وغيره، وإسناده ضعيف.
متابعات و شواہد: معقل بن یسار کی روایت بھی موجود ہے مگر اس کی سند ضعیف ہے۔
وحديث سهل بن سعد عند ابن حبان (780) وغيره، وإسناده ضعيف كذلك.
متابعات و شواہد: سہل بن سعد کی روایت بھی ابن حبان کے ہاں ہے، لیکن وہ بھی ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2081 سے ماخوذ ہے۔