المستدرك على الصحيحين
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل
مَنْ لَيْسَ فِي جَوْفِهِ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ باب: قرآن کے فضائل — جس کے سینے میں قرآن نہ ہو وہ ویران گھر کی مانند ہے۔
حدیث نمبر: 2060
أخبرني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذان، حدثنا قُتيبة بن سعيد. وحدثنا عبد الله بن سعد، حدثنا إبراهيم بن إسحاق، حدثنا إسحاق بن إبراهيم ويعقوب بن إبراهيم الدَّوْرَقي؛ قالوا: حدثنا جَرير، عن قابُوس بن أبي ظَبْيان، عن أبيه، عن ابن عباس، عن رسول الله ﷺ قال: "إنَّ الذي ليس في جوفه من القرآن شيءٌ، كالبيتِ الخَرِبِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک وہ شخص جس کے سینے میں قرآن کا کچھ حصہ بھی نہیں، وہ اجڑے ہوئے گھر کی مانند ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده فيه لين من أجل قابوس بن أبي ظبيان. جرير: هو ابن عبد الحميد.
حکم / درجۂ حدیث: قابوس بن ابی ظبیان کی وجہ سے اس سند میں "لین" (ہلکا سا ضعف) ہے۔ جریر سے مراد ابن عبدالحمید ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1947)، والترمذي (2913) من طريق جرير بن عبد الحميد بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ترمذی نے جریر بن عبدالحمید کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حکم: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وفي الباب عن ابن مسعود موقوفًا قال: البيت الذي لا يُقرأ فيه القرآن كمثل البيت الخرب الذي لا عامر له. أخرجه ابن أبي شيبة 10/ 486، والفريابي في "فضائل القرآن" (41) وغيرهما. وإسناده صحيح. وانظر تمام تخريجه فيما سيأتي برقم (2106).
متابعات و شواہد: اس باب میں ابن مسعود کا موقوف قول بھی ہے کہ: "جس گھر میں قرآن نہ پڑھا جائے وہ اس اجاڑ گھر کی طرح ہے جس میں کوئی بسنے والا نہ ہو"۔ اس کی سند صحیح ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: قابوس بن ابی ظبیان کی وجہ سے اس سند میں "لین" (ہلکا سا ضعف) ہے۔ جریر سے مراد ابن عبدالحمید ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1947)، والترمذي (2913) من طريق جرير بن عبد الحميد بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ترمذی نے جریر بن عبدالحمید کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حکم: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وفي الباب عن ابن مسعود موقوفًا قال: البيت الذي لا يُقرأ فيه القرآن كمثل البيت الخرب الذي لا عامر له. أخرجه ابن أبي شيبة 10/ 486، والفريابي في "فضائل القرآن" (41) وغيرهما. وإسناده صحيح. وانظر تمام تخريجه فيما سيأتي برقم (2106).
متابعات و شواہد: اس باب میں ابن مسعود کا موقوف قول بھی ہے کہ: "جس گھر میں قرآن نہ پڑھا جائے وہ اس اجاڑ گھر کی طرح ہے جس میں کوئی بسنے والا نہ ہو"۔ اس کی سند صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2060 سے ماخوذ ہے۔