المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
الدُّعَاءُ الْعَظِيمُ النَّفْعِ باب: بہت زیادہ نفع والی دعا۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرْو، حدثنا محمد بن عيسى الطَّرَسُوسى. وحدثنا أحمد بن سلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي. وحدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني؛ قالوا: حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثنا أحمد بن محمد بن داود الصَّنْعاني، أخبرني أفلَحُ بن كثير، حدثنا ابنُ جُريج، عن عمرو بن شُعيب، عن أبيه، عن جدِّه، قال: نزل جبريلُ ﵇ إلى النبي ﷺ بهذا الدعاء من السماء، وإنَّ جبريل جاء إلى رسول الله ﷺ في أحسنِ صُورة لم يَنزلْ في مثلِها قطُّ ضاحكًا مُستبشرًا، فقال: السلام عليك يا محمدُ، قال: "وعليك السلامُ يا جبريلُ"، قال: إِنَّ الله بعثني إليك بهديةٍ، قال: "وما تلك الهديةُ يا جبريلُ؟ " قال: كلماتٌ من كُنوز العرشِ، أكرمَك اللهُ بهنّ، قال: وما هنّ يا جبريلُ؟ قال: فقال جبريلُ: قُل: يا مَن أظهرَ الجَميلَ، وسَتَر القَبيحَ، يا مَن لا يُؤاخِذُ بالجَرِيرةِ، ولا يَهتِكُ السِّتْر، يا عظيمَ العَفْو، يا حَسَنَ التَّجاوُزِ، يا واسعَ المغفرةِ، يا باسِطَ اليَدين بالرحمةِ، يا صاحبَ كُلِّ نَجْوى، ويا مُنتهى كلِّ شَكْوى، يا كريمَ الصَّفْح، يا عظيمَ المَنِّ، يا مُبتدئَ النِّعَم قبل استحقاقِها، يا ربَّنا ويا سيدَنا ويا مَولانا، ويا غايةَ رَغبتِنا، أسألُك يا اللهُ أن لا تَشوِيَ خَلْقي بالنار"، فقال رسول الله ﷺ: "فما ثَواب هذه الكلماتِ؟ " ثم ذكر باقيَ الحديث بعد الدعاء بطُوله (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ رواته كلهم مدنيون ثِقات، وقد ذكرتُ فيما تقدَّم الخلافَ بين أئمة الحديث في سماع شعيب بن محمد بن عبد الله بن عمرو من جَدِّه.
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام آسمان سے نبی کریم ﷺ کے پاس یہ دعا لے کر نازل ہوئے، اور جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے پاس اب تک کی سب سے خوبصورت صورت میں ہنستے ہوئے اور خوشخبری دیتے ہوئے تشریف لائے اور کہا: اے محمد! آپ پر سلامتی ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور تم پر بھی سلامتی ہو اے جبرائیل“، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی طرف ایک ہدیہ دے کر بھیجا ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے جبرائیل! وہ ہدیہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: وہ عرش کے خزانوں میں سے چند کلمات ہیں جن کے ذریعے اللہ نے آپ کو عزت بخشی ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”وہ کیا ہیں اے جبرائیل؟“ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ کہیے: «يَا مَنْ أَظْهَرَ الْجَمِيلَ، وَسَتَرَ الْقَبِيحَ، يَا مَنْ لَا يُؤَاخِذُ بِالْجَرِيرَةِ، وَلَا يَهْتِكُ السِّتْرَ، يَا عَظِيمَ الْعَفْوِ، يَا حَسَنَ التَّجَاوُزِ، يَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ، يَا بَاسِطَ الْيَدَيْنِ بِالرَّحْمَةِ، يَا صَاحِبَ كُلِّ نَجْوَى، وَيَا مُنْتَهَى كُلِّ شَكْوَى، يَا كَرِيمَ الصَّفْحِ، يَا عَظِيمَ الْمَنِّ، يَا مُبْتَدِئَ النِّعَمِ قَبْلَ اسْتِحْقَاقِهَا، يَا رَبَّنَا وَيَا سَيِّدَنَا وَيَا مَوْلَانَا، وَيَا غَايَةَ رَغْبَتِنَا، أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ أَنْ لَا تَشْوِيَ خَلْقِي بِالنَّارِ» ”اے وہ جس نے خوبصورتی کو ظاہر کیا اور برائی کو چھپایا، اے وہ جو گناہ پر (فوراً) گرفت نہیں فرماتا اور پردہ دری نہیں کرتا، اے عظیم درگزر کرنے والے، اے بہترین معاف فرمانے والے، اے وسیع مغفرت والے، اے رحمت کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھ پھیلانے والے، اے ہر سرگوشی کے ساتھی اور اے ہر شکایت کی آخری پناہ گاہ، اے بہترین چشم پوشی فرمانے والے، اے عظیم احسان کرنے والے، اے استحقاق سے پہلے ہی نعمتوں کی ابتدا کرنے والے، اے ہمارے رب، اے ہمارے سردار، اے ہمارے مولیٰ اور اے ہماری رغبتوں کی انتہا، اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے وجود کو آگ میں نہ جلائے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”ان کلمات کا ثواب کیا ہے؟“ اس کے بعد انہوں نے دعا کے بعد طویل حدیث ذکر کی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے کیونکہ اس کے تمام راوی مدنی اور ثقہ ہیں، اور میں نے اس سے پہلے شعیب بن محمد کے اپنے دادا سے سماع کے متعلق ائمہ حدیث کے اختلاف کا تذکرہ کر دیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "شدید ضعیف" ہے۔ احمد بن محمد بن داود الصنعانی پر امام ذہبی نے اس حدیث کی وجہ سے جرح کی ہے اور امام حاکم کی تصحیح کا رد کیا ہے۔ حافظ ابن حجر کے نزدیک یہ وہی راوی ہے جسے کذاب (جھوٹا) کہا گیا ہے۔ تاہم سند میں موجود "افلح" کے بارے میں ابن ابی حاتم نے کوئی جرح نقل نہیں کی۔
وأخرجه البيهقي في "الدعوات الكبير" (238) عن أبي عبد الله الحاكم، بأسانيده الثلاثة.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "الدعوات الکبیر" (238) میں امام حاکم کی تینوں اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن ابن عباس عن أبي بن كعب عند العقيلي في "الضعفاء الكبير" (526)، والبيهقي في "الأسماء والصفات" (90)، والخطيب في "المتفق والمفترق" (609)، وإسناده ضعيف.
متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت ابن عباس عن ابی بن کعب کی روایت عقیلی اور بیہقی کے ہاں بھی ہے، مگر اس کی سند "ضعیف" ہے۔