حدیث نمبر: 20
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وَهْب بن جَرِير، حدثنا شُعْبة. وأخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن الأَسَدي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعْبة، عن عمرو بن مُرَّة قال: سمعتُ عبدَ الله بن سَلِمةَ يحدِّث عن صفوان بن عَسَّال المُرَادي، قال: قال يهوديٌّ لصاحبه: اذهب بنا إلى هذا النبيِّ نسأَلْه عن هذه الآية: ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ﴾ [الإسراء: 101]، فقال: لا تقولوا له: نبيٌّ، فإنه لو سَمِعَك لصارت له أربعةُ أعيُن، قال: فسأَلاه، فقال: "لا تُشرِكوا بالله شيئًا، ولا تَسرِقوا، ولا تَزْنُوا، ولا تقتلوا النفسَ التي حَرَّمَ اللهُ إلّا بالحق، ولا تَسحَرُوا، ولا تأكلوا الرِّبا، ولا تَمشُوا بِبَريءٍ إلى ذي سلطانٍ ليقتلَه، ولا تَقذِفُوا مُحصِنةً، وأنتم يا يهودُ عليكم خاصةً ألَّا تَعْدُوا في السَّبْت"، فقبَّلا يدَه ورجلَه وقالا: نشهدُ أنك نبيٌّ، فقال: "ما مَنَعَكما أن تُسلِما؟ " قالا: إنَّ داود ﵇ دعا أن لا يزالَ من ذُرِّيته نبيٌّ، وإنا نخشى أن تقتلَنا يهودُ (1).
هذا حديث صحيح لا نعرفُ له علّةً بوجه من الوجوه، ولم يُخرجاه، ولا ذَكَرا لصفوان بن عسال حديثًا واحدًا.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: ہمیں اس نبی کے پاس لے چلو تاکہ ہم ان سے اس آیت کے بارے میں سوال کریں: ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ﴾ ”اور یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو کھلی نشانیاں عطا فرمائیں۔“ [سورة الإسراء: 101] اس کے ساتھی نے کہا: انہیں ’نبی‘ نہ کہنا، کیونکہ اگر انہوں نے تمہیں سن لیا تو ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی (یعنی وہ خوش ہو جائیں گے)۔ راوی کہتے ہیں: پس ان دونوں نے آپ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، جس جان کو اللہ نے حرام کیا ہے اسے ناحق قتل نہ کرو، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، کسی بے گناہ کو بادشاہ کے پاس (سزا دلوانے کے لیے) نہ لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے، کسی پاکدامن عورت پر تہمت نہ لگاؤ، اور اے یہودیو! تم پر خاص طور پر یہ لازم ہے کہ ہفتے کے دن (شکار کر کے) حد سے تجاوز نہ کرو۔“ آپ ﷺ کے یہ ارشادات سن کر ان دونوں نے آپ ﷺ کے دستِ مبارک اور قدموں کو بوسہ دیا اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقیناً نبی ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”پھر تمہیں اسلام لانے سے کس چیز نے روکا ہے؟“ انہوں نے کہا: حضرت داؤد علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ ان کی ذریت میں ہمیشہ کوئی نبی رہے، اور ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہم اسلام لے آئے تو یہودی ہمیں قتل کر دیں گے۔
یہ ایک ایسی صحیح حدیث ہے جس کی ہمیں کسی بھی پہلو سے کوئی علت معلوم نہیں، لیکن ان دونوں نے اس کی تخریج نہیں کی، اور نہ ہی صفوان بن عسال کی کوئی ایک بھی حدیث ذکر کی ہے۔
میں نے ابوعبداللہ محمد بن یعقوب حافظ کو سنا، ان سے محمد بن عبید نے سوال کیا کہ ان دونوں نے صفوان بن عسال کی حدیث کو اصلاً کیوں چھوڑ دیا؟ تو انہوں نے جواب دیا: اس کی طرف جانے والے راستے (سند) کے فساد کی وجہ سے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: ابوعبداللہ کی مراد اس سے «عاصم عن زر» والی سند ہے، کیونکہ ان دونوں نے عاصم بن بہدلہ کو چھوڑ دیا ہے، لیکن جہاں تک عبداللہ بن سلمہ مرادی (جن کی کنیت ابوالعالیہ ہے) کا تعلق ہے، تو وہ سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے کبار اصحاب میں سے ہیں، اور انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور جابر بن عبداللہ وغیرہم سے روایات لی ہیں، اور ان سے ابوالزبیر مکی اور تابعین کی ایک جماعت نے روایت کی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 20
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف من أجل عبد الله بن سَلِمة
تخریج حدیث «إسناده ضعيف من أجل عبد الله بن سَلِمة، وسيأتي الكلام على حاله عند التعليق على كلام المصنف لاحقًا» [ترقيم الرساله 20] [ترقيم الشركة 20] [ترقيم العلميه 20]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف من أجل عبد الله بن سَلِمة، وسيأتي الكلام على حاله عند التعليق على كلام المصنف لاحقًا.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند عبد اللہ بن سلمہ کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ ان کے حال پر کلام آگے مصنف کے قول پر تعلیق میں آئے گا۔
وهو في "مسند أحمد" 30/ (18092) عن محمد بن جعفر ويزيد بن هارون عن شعبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: یہ "مسند احمد" (30/ 18092) میں محمد بن جعفر اور یزید بن ہارون عن شعبہ سے اسی سند کے ساتھ موجود ہے۔
وأخرجه الترمذي (2733) و (3144)، والنسائي (3527) و (8602) من طرق عن شعبة، به.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (2733، 3144) اور نسائی (3527، 8602) نے شعبہ سے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: حسن صحيح!
درجۂ حدیث: اور ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وأخرج ابن ماجه (3705) منه قصة تقبيل اليهوديين يدَ النبيِّ ﷺ ورجلَه، من طريق محمد بن جعفر، عن شعبة.
حوالہ / مصدر: ابن ماجہ (3705) نے اس میں سے دو یہودیوں کے نبی ﷺ کے ہاتھ پاؤں چومنے کا قصہ محمد بن جعفر عن شعبہ کے طریق سے نکالا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 20 سے ماخوذ ہے۔