المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
أَمْرُ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ " باب: اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی ﷺ کو یہ کہنے کا حکم: اے اللہ! میں تجھ سے نیکیاں مانگتا ہوں اور برائیوں کو چھوڑنے کی توفیق۔
أخبرَناهُ أبو حفص عُمر بن محمد الفقيه بِبُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا محمد بن سعيد بن سُويد القرشي بالكوفة، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أبيه، عن معاذ بن جبل قال: أبطأ عنا رسولُ الله ﷺ صلاةَ الفجر، حتى كادتْ أن تُدرِكَنا الشمسُ، ثم خرج فصلَّى بنا فخفَّف في صلاتِه، ثم انصرفَ فأقبلَ علينا بوجهِه، فقال: "على مَكانِكم أُخبِرْكم ما بَطّأني عنكم اليومَ في هذه الصلاةِ، إني صلَّيتُ في ليلَتي هذه ما شاءَ اللهُ، ثم مَلَكتْني عيني فنِمتُ، فرأيتُ ربّي ﵎، فألهَمَني أنْ قلتُ: اللهمَّ إني أسألُك الطيّباتِ، وتَرْك المُنكراتِ، وحبَّ المَساكينِ، وأن تتوبَ علَيَّ، وتَغفرَ لي وتَرحَمَني، وإذا أردتَ في خَلْقِك فتنةً، فنجِّني إليك منها غيرَ مفتونٍ، اللهمَّ وأسألُك حبَّك وحبَّ من يُحبُّك، وحبَّ عمل يقرِّبُني إلى حُبِّك"، ثم أقبل إلينا ﷺ، فقال: "تعلَّمُوهنَّ وادرُسُوهنَّ، فإنهن حَقٌّ" (1).
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھانے میں اتنی دیر کر دی کہ قریب تھا کہ سورج طلوع ہو جائے، پھر آپ ﷺ تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی اور اس میں اختصار فرمایا، سلام پھیرنے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ آج مجھے نماز میں تاخیر کیوں ہوئی، میں نے اس رات حسبِ منشا نماز پڑھی پھر میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا، میں نے اپنے رب عزوجل کا دیدار کیا، اللہ نے میرے دل میں یہ کلمات ڈالے کہ میں کہوں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ، وَتَرْك المُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ المَسَاكِينِ، وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ، وَتَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِي خَلْقِكَ فِتْنَةً، فَنَجِّنِي إِلَيْكَ مِنْهَا غَيْرَ مَفْتُونٍ، اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ» ”اے اللہ! میں تجھ سے پاکیزہ نیکیوں، منکرات کے ترک اور مسکینوں کی محبت کا سوال کرتا ہوں، اور یہ کہ تو میری توبہ قبول کر، مجھے معاف کر دے اور مجھ پر رحم فرما، اور جب تو اپنی مخلوق میں کوئی فتنہ برپا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں مبتلا کیے بغیر اپنے پاس بلا لے، اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت، اس شخص کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہو اور ایسے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے“، پھر آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”انہیں سیکھو اور ان کا درس دیا کرو کیونکہ یہ سراسر برحق ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف ہے۔ سعید بن سوید مجهول ہیں، ابوشیبہ الواسطی ضعیف و منکر الحدیث ہیں، اور ابن ابی لیلیٰ کا حافظہ خراب تھا۔ نیز عبد الرحمن کا حضرت معاذؓ سے سماع نہیں۔
والدارقطني في "رؤية الله" (228) من طريق محمد بن سويد بن سعيد، بهذا الإسناد. ووقع في المطبوع من "مسند البزار": عبد الله بن سويد، وهو خطأ. وقد أشار الدارقطني في "العلل" 6/ 57 إلى طريق محمد بن سويد هذه مع بقية طرق هذا الخبر ثم قال: ليس فيها صحيح، وكلها مضطربة.
حوالہ / مصدر: دارقطنی نے اسے محمد بن سوید کے طریق سے روایت کیا اور صراحت کی کہ اس کی تمام اسانید مضطرب اور غیر صحیح ہیں۔