حدیث نمبر: 1898
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن شاذان الجَوهري، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا فُضَيل بن مرزوق، حدّثني أبو سَلَمةَ الجُهَني، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن أبيه قال: قال عبد الله بن مسعود: قال رسول الله ﷺ: "ما أصابَ مسلمًا قَطُّ همٌّ ولا حَزَنٌ فقال: اللهمَّ إِنِّي عبدُك، وابنُ أَمَتَكَ، ناصِيتي في يَدِكَ، ماضٍ فيَّ حُكمُك، عدلٌ فيَّ قضاؤُك، أسألكَ بكلِّ اسمٍ هو لك، سمَّيتَ به نفسَك، أو أنزلتَه في كتابك، أو علَّمتَه أحدًا من خَلْقِكَ، أو استأثرتَ به في عِلْمِ الغَيبِ عندك، أن تجعلَ القرآنَ رَبيعَ قلبي، وجلاءَ حُزْني، وذهابَ همِّي، إلَّا أذهَبَ الله همَّه، وأبدَلَه مكانَ حَزَنِه فَرَحًا"، قالوا يا رسولَ الله، ألا نتعلمُ هذه الكلمات؟ قال: "بلى، ينبغي لمن سَمِعَهُنَّ أن يتعلَّمَهنَّ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم إن سَلِمَ من إرسال عبد الرحمن بن عبد الله عن أبيه، فإنه مختَلَف في سماعه عن أبيه (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کسی مسلمان کو کبھی کوئی فکر یا غم پہنچے اور وہ یہ کہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي فِي يَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي» ”اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں اور تیری بندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، مجھ پر تیرا حکم جاری ہے اور میرے بارے میں تیرا ہر فیصلہ عین انصاف ہے، میں تجھ سے تیرے ان تمام ناموں کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں جو تو نے خود اپنے لیے رکھے ہیں، یا اپنی کتاب میں نازل فرمائے ہیں، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھائے ہیں، یا انہیں اپنے پاس علمِ غیب میں محفوظ کر رکھا ہے، (وہ سوال یہ ہے) کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے غم کا مداوا اور میری پریشانی کے خاتمے کا ذریعہ بنا دے“، تو اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی دور کر دیتا ہے اور اس کے غم کو خوشی میں بدل دیتا ہے۔“ صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ کلمات سیکھ نہ لیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، جس نے بھی انہیں سنا اسے چاہیے کہ وہ انہیں سیکھ لے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، بشرطیکہ عبد الرحمن بن عبد اللہ کی اپنے والد سے روایت کے مرسل ہونے کا خدشہ نہ ہو، کیونکہ ان کا اپنے والد سے سماع کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1898
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة أبي سلمة الجهني
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة أبي سلمة الجهني، كما هو مبيَّن في التعليق على "مسند أحمد" 6/ (3712)، فليس هو موسى بن عبد الله - أو ابن عبد الرحمن - الجهني الثقة الذي هو من رجال "التهذيب"، لذلك تعقب المصنِّفَ الحافظُ الذهبي في "تلخيصه" فقال: أبو سلمة لا يُدرى من هو، ولا ...» [ترقيم الرساله 1898] [ترقيم الشركة 1883]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لجهالة أبي سلمة الجهني، كما هو مبيَّن في التعليق على "مسند أحمد" 6/ (3712)، فليس هو موسى بن عبد الله - أو ابن عبد الرحمن - الجهني الثقة الذي هو من رجال

"التهذيب"، لذلك تعقب المصنِّفَ الحافظُ الذهبي في "تلخيصه" فقال: أبو سلمة لا يُدرى من هو، ولا رواية له في الكتب الستة، انتهى. القاسم بن عبد الرحمن: هو ابن عبد الله بن مسعود.

حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند ابوسلمہ الجہنی کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے۔
اہم نکتہ: امام ذہبی نے حاکم پر تعاقب کرتے ہوئے کہا کہ ابوسلمہ مجہول ہے اور کتبِ ستہ میں اس کی کوئی روایت نہیں ہے۔
وأخرجه أحمد (3712) و (4318)، وابن حبان (972) من طريق يزيد بن هارون، عن فضيل بن مرزوق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابن حبان (972) نے یزید بن ہارون عن فضیل بن مرزوق کی سند سے روایت کیا ہے۔
(1) قد رجحنا فيما سلف برقم (278) أنه سمع منه شيئًا قليلًا، والله أعلم.
فنی نکتہ: ہم نے پہلے رقم (278) پر یہ راجح قرار دیا ہے کہ عبدالرحمن کا اپنے والد سے معمولی سماع ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1898 سے ماخوذ ہے۔