حدیث نمبر: 1885
فأخبرَناه أبو عبد الله الصَّفَّار، حدثنا ابن أبي الدُّنيا، حدّثني عُبيد بن محمد، حدثنا محمد بن مُهاجر القُرَشي، حدثني إبراهيم بن محمد بن سعد، عن أبيه، عن جدِّه قال: كنا جلوسًا عند رسول الله ﷺ فقال: "ألا أخبِرُكم بشيء إذا نزل برجل منكم كَرْبٌ أو بلاءٌ من بلايا الدنيا دعا به يُفَرَّجْ عنه؟ " فقيل له: بلى، فقال: "دعاءُ ذي النُّون: لا إله إلَّا أنتَ، سبحانَك إنِّي كنتُ من الظالمين" (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم میں سے کسی پر دنیا کی کوئی سخت مصیبت یا آزمائش نازل ہو اور وہ اس کے ذریعے دعا کرے تو اس کی وہ تکلیف دور کر دی جائے؟“ عرض کیا گیا: کیوں نہیں (ضرور بتائیں)! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ذوالنون (علیہ السلام) کی دعا «لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» ”تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی خطاکاروں میں سے ہوں“ ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1885
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبيد بن محمد» [ترقيم الرساله 1885] [ترقيم الشركة 1870]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبيد بن محمد - وهو المحاربي - وشيخُه محمد بن مهاجر القرشي قال البخاري: لا يتابع على حديثه.
حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے لیکن یہ سند عبید بن محمد المحاربی اور ان کے شیخ محمد بن مہاجر کی وجہ سے ضعیف ہے (بخاری کے بقول ان کی متابعت نہیں کی جاتی)۔
وأخرجه النسائي (10416) عن القاسم بن زكريا، عن عبيد بن محمد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (10416) نے قاسم بن زکریا کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1885 سے ماخوذ ہے۔