المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
مَنْ دَعَا بِدَعْوَةِ ذِي النُّونِ اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ باب: جس نے ذوالنون (سیدنا یونس علیہ السلام) کی دعا سے دعا کی اللہ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔
حدیث نمبر: 1884
حدَّثَناه أبو عمرو محمد بن أحمد بن إسحاق العدل، حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن جُوروَيهِ (1) الرازي، حدثنا عمر بن الخطاب الأهوازي، حدثنا محمد بن يوسف الفِرْيابي، حدثنا سفيان، عن يونس بن أبي إسحاق، عن أبيه، عن إبراهيم بن محمد بن سعد، عن أبيه (2) قال: قال رسولُ الله ﷺ: "دعوةُ ذي النُّون إِذْ دعا وهو في بطن الحوت: لا إله إلَّا أنتَ سبحانك إنِّي كنتُ من الظالمين، لا يدعو بها رجلٌ مسلمٌ في شيءٍ قطُّ، إِلَّا استجابَ اللهُ له" (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ذوالنون (علیہ السلام) کی وہ دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں مانگی تھی وہ یہ ہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» ”تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظلم کرنے والوں میں سے ہوں“، کوئی بھی مسلمان مرد کسی بھی معاملے میں ان کلمات کے ساتھ دعا نہیں مانگتا مگر اللہ اس کی پکار سن لیتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: جوريه، وهو خطأ، والتصويب من "تاريخ بغداد" 3/ 452، و"الأنساب" للسمعاني 3/ 357 رسم (الجورويي).
توضیح: قلمی نسخوں میں "جوریہ" لکھا ہے جو غلط ہے، درست "الجوروی" ہے۔
(2) كذا في النسخ الخطية بصورة الإرسال، ووقع في المطبوع بعد هذا: "عن جده سعد بن أبي وقاص"، موصولًا، وصنيع الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" (5116) يوهم أنه موصول، حيث لم يشر إلى إرساله، والله أعلم.
سندی اختلاف: قلمی نسخوں میں یہ "مرسل" ہے، جبکہ مطبوعہ میں "عن جدہ سعد" (موصول) لکھا ہے۔ حافظ ابن حجر کی عبارت سے بھی اس کے موصول ہونے کا وہم ہوتا ہے۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد وقع فيه الوهم ممن دون الفريابي، فذكر فيه سفيان الثوري بين الفريابي ويونس كما قال المصنف، فقد رواه جمعٌ عن الفريابي - كما سلف في تخريج الحديث الذي قبله - لم يذكروا فيه سفيان، فالوهم إما من عمر بن الخطاب الأهوازي فهو صدوق كما في "التقريب"، أو من محمد بن عبد الله بن جورويه، فقد ترجمه الخطيب في "تاريخ بغداد" ولم يذكر فيه جرحًا ولا تعديلًا. ثم إذا كان الصواب في رواية سفيان هذه أنه مرسل، فهذا وهمٌ آخر، حيث المحفوظ أنه من حديث سعد بن أبي وقاص موصولًا، والله تعالى أعلم.
حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے لیکن اس سند میں فریابی سے نیچے والوں کو وہم ہوا ہے جنہوں نے فریابی اور یونس کے درمیان سفیان ثوری کا اضافہ کر دیا۔
علّت: یہ وہم یا تو عمر بن الخطاب الاہوازی سے ہوا یا محمد بن عبداللہ بن جوروئی سے۔ محفوظ بات یہ ہے کہ یہ روایت موصولاً حضرت سعد سے ثابت ہے۔
ولم نقف عليه من هذا الوجه عند غير المصنف.
حوالہ / مصدر: ہمیں یہ طریق مصنف کے علاوہ کہیں نہیں ملا۔
توضیح: قلمی نسخوں میں "جوریہ" لکھا ہے جو غلط ہے، درست "الجوروی" ہے۔
(2) كذا في النسخ الخطية بصورة الإرسال، ووقع في المطبوع بعد هذا: "عن جده سعد بن أبي وقاص"، موصولًا، وصنيع الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" (5116) يوهم أنه موصول، حيث لم يشر إلى إرساله، والله أعلم.
سندی اختلاف: قلمی نسخوں میں یہ "مرسل" ہے، جبکہ مطبوعہ میں "عن جدہ سعد" (موصول) لکھا ہے۔ حافظ ابن حجر کی عبارت سے بھی اس کے موصول ہونے کا وہم ہوتا ہے۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد وقع فيه الوهم ممن دون الفريابي، فذكر فيه سفيان الثوري بين الفريابي ويونس كما قال المصنف، فقد رواه جمعٌ عن الفريابي - كما سلف في تخريج الحديث الذي قبله - لم يذكروا فيه سفيان، فالوهم إما من عمر بن الخطاب الأهوازي فهو صدوق كما في "التقريب"، أو من محمد بن عبد الله بن جورويه، فقد ترجمه الخطيب في "تاريخ بغداد" ولم يذكر فيه جرحًا ولا تعديلًا. ثم إذا كان الصواب في رواية سفيان هذه أنه مرسل، فهذا وهمٌ آخر، حيث المحفوظ أنه من حديث سعد بن أبي وقاص موصولًا، والله تعالى أعلم.
حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے لیکن اس سند میں فریابی سے نیچے والوں کو وہم ہوا ہے جنہوں نے فریابی اور یونس کے درمیان سفیان ثوری کا اضافہ کر دیا۔
علّت: یہ وہم یا تو عمر بن الخطاب الاہوازی سے ہوا یا محمد بن عبداللہ بن جوروئی سے۔ محفوظ بات یہ ہے کہ یہ روایت موصولاً حضرت سعد سے ثابت ہے۔
ولم نقف عليه من هذا الوجه عند غير المصنف.
حوالہ / مصدر: ہمیں یہ طریق مصنف کے علاوہ کہیں نہیں ملا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1884 سے ماخوذ ہے۔