حدیث نمبر: 1846
أخبرنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا عبد الله بن سعيد بن أبي هند، عن زياد بن أبي زياد مولى ابن (1) عيّاش [عن] أبي (2) بَحْريَّة، عن أبي الدَّرداء قال: قال النبيُّ ﷺ: "ألا أُنبِّئُكم بخيرِ أعمالِكم، وأزكاها عند مَليكِكُم، وأرفعِها في درجاتِكم، وخيرٌ لكم من إعطاء الذَّهب والوَرِق، وأن تَلْقَوا عدوَّكم فتَضرِبوا أعناقَهم ويَضرِبوا أعناقَكُم؟ " قالوا: وما ذاكَ يا رسول الله؟ قال: "ذِكْرُ الله ﷿". وقال معاذ بنُ جبل: ما عمل آدميٌّ من عَملٍ أنجَى له من عذاب الله من ذِكْرِ الله ﷿ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے اعمال میں سے سب سے بہتر، تمہارے مالک کے نزدیک سب سے زیادہ پاکیزہ، تمہارے درجات میں سب سے بلند، اور تمہارے لیے سونا اور چاندی (اللہ کی راہ میں) دینے سے بھی بہتر، اور اس سے بھی بڑھ کر کہ تم (میدانِ جنگ میں) اپنے دشمن سے ٹکراؤ، پھر تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمہاری گردنیں ماریں، ایسے عمل کی خبر نہ دوں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کا ذکر۔“ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ عزوجل کے ذکر سے بڑھ کر کوئی عمل ایسا نہیں جو انسان کو اللہ کے عذاب سے نجات دلانے والا ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1846
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، على خلاف في رفعه ووقفه، ووصله وإرساله، كما هو مبين في التعليق على "مسند أحمد" 36/ (21702). أبو بحرية: هو عبد الله بن قيس الكندي.» [ترقيم الرساله 1846] [ترقيم الشركة 1831]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرف في النسخ الخطية إلى: أبي، والصواب ما أثبتنا من المطبوع ومن مصادر ترجمته، وابن عياش: هو عبد الله بن عياش بن أبي ربيعة.
فنی نکتہ: خطی نسخوں میں "أبی" ہو گیا ہے، درست نام 'عبداللہ بن عیاش' ہے جیسا کہ مطبوعہ نسخوں میں ہے۔
(2) في النسخ الخطية: وأبي، بدلًا من: عن أبي، وهو خطأ صوَّبناه من مصادر التخريج، وكذلك رواه البيهقي على الصواب من طريق المصنف نفسه في "الدعوات الكبير" (20)، وفي "شعب الإيمان" (516).
فنی نکتہ: خطی نسخوں میں "وأبی" لکھا ہے جو غلط ہے، درست "عن أبی" ہے جیسا کہ بیہقی اور دیگر مصادر میں مصنف کی سند سے ثابت ہے۔
(3) إسناده صحيح، على خلاف في رفعه ووقفه، ووصله وإرساله، كما هو مبين في التعليق على "مسند أحمد" 36/ (21702). أبو بحرية: هو عبد الله بن قيس الكندي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے اگرچہ اس کے مرفوع و موقوف ہونے میں اختلاف ہے۔
فنی نکتہ: ابوبحریہ سے مراد عبداللہ بن قیس الکندی ہیں۔
وأخرجه أحمد (21702) عن مكي بن إبراهيم، بهذا الإسناد. لكن لم يذكر خبر معاذ بن جبل في آخره.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (21702) نے مکی بن ابراہیم کی سند سے روایت کیا ہے مگر اس میں معاذ بن جبلؓ کا قول آخر میں نہیں ہے۔
وأخرجه أحمد كذلك (21702) عن يحيى بن سعيد القطان، عن عبد الله بن سعيد بن أبي هند، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے یحییٰ بن سعید القطان کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
وأخرجه تامًّا مجموعًا مع قول معاذٍ ابنُ ماجه (3790) من طريق المغيرة بن عبد الرحمن، والترمذي (3377) من طريق الفضل بن موسى، كلاهما عن عبد الله بن سعيد، به.
حوالہ / مصدر: معاذ بن جبلؓ کے قول کے ساتھ اسے مکمل طور پر ابن ماجہ (3790) اور ترمذی (3377) نے روایت کیا ہے۔
وأخرجه دون خبر معاذ أحمد 36/ (21704) و 45/ (27525) من طريق موسى بن عقبة، عن زياد بن أبي زياد مولى ابن عياش، عن أبي الدرداء، عن النبي ﷺ. وهذا إسناد منقطع، لم يُذكَر فيه أبو بحرية.
علّت / فنی نکتہ: امام احمد (21704) کی موسیٰ بن عقبہ والی سند "منقطع" ہے کیونکہ اس میں ابوبحریہ کا ذکر نہیں ہے۔
وقد روى الحديث بشطريه عبد العزيز بن أبي سلمة عن زياد بن أبي زياد، لكن رفعه كله من حديث معاذ بن جبل، أخرجه أحمد 36/ (22079) من طريقه عن زياد بن أبي زياد أنه بلغه عن معاذ بن جبل أنه قال: قال رسول الله ﷺ … فذكره. وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه.
درجۂ حدیث: عبدالعزیز بن ابی سلمہ کی روایت منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، جس میں انہوں نے اسے معاذ بن جبلؓ کی مسند قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1846 سے ماخوذ ہے۔