حدیث نمبر: 1844
أخبرنا أبو الحسين أحمد بن عثمان المقرئ ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن أبي كَثير، عن عبد الرحمن بن يعقوب مولى الحُرَقَة، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: قال رسولُ الله ﷺ: "سَبَقَ المُفرِّدون" قالوا يا رسول الله، وما المُفرِّدون؟ قال: "الذين يُهْتَرونَ في ذِكْر الله" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”«مفردون» (سبقت لے جانے والے) آگے نکل گئے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اور «مفردون» کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ لوگ جو اللہ کے ذکر میں مگن رہتے ہیں (اور اسی کی یاد میں کھو جاتے ہیں)۔“
یہ حدیث صحیح پر شرطِ شیخین ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1844
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو.» [ترقيم الرساله 1844] [ترقيم الشركة 1829]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابو عامر العقدی سے مراد عبدالملک بن عمرو ہیں۔
وأخرجه أحمد 14/ (8290) عن أبي عامر العقدي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (14/8290) نے ابو عامر العقدی کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 15/ (9332)، ومسلم (2676)، وابن حبان (858) من طريق العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: كان رسول الله ﷺ يسير في طريق مكة، فمرَّ على جبل يقال له: جُمْدان، فقال: "سيروا، هذا جُمْدان، سَبَقَ المفرِّدون" قالوا: وما المفرِّدون يا رسول الله؟ قال: "الذاكرون اللهَ كثيرًا والذاكرات".
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، مسلم (2676) اور ابن حبان نے العلاء عن ابیہ عن ابی ہریرہؓ کی سند سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے جبلِ جُمدان کے پاس سے گزرتے ہوئے فرمایا: "چلو، یہ جمدان ہے، مفردون (بازی) لے گئے"۔ پوچھا گیا وہ کون ہیں؟ فرمایا: "بکثرت ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں"۔
وأخرج الترمذي (3596) من طريق عمر بن راشد، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة رفعه: "سبق المفردون" قالوا: وما المفردون يا رسول الله؟ قال: "المستهتَرون في ذكر الله، يضعُ الذِّكرُ عنهم أثقالهم، فيأتون يوم القيامة خفافًا". قال الترمذي: حديث حسن غريب. قلنا: عمر بن راشد متفقٌ على ضعفه.
حوالہ / مصدر: امام ترمذی (3596) نے عمر بن راشد کے طریق سے اسے روایت کیا ہے جس میں "المستہترون" (ذکر کے گرویدہ) کے الفاظ ہیں، مگر اس کا راوی عمر بن راشد ضعیف ہے۔
و"المفردون" بفتح الفاء وكسر الراء المشددة، وقيل: بتخفيفها وإسكان الفاء. قال ابن الأثير: يقال: فَرَد برايه وفرّد وأفرد واستفرد، بمعنى انفرد. وقيل: فرَّد الرجلُ: إذا تفقه واعتزل الناس وخلا بمراعاة الأمر والنهي. وقيل: المفردون: هم الهَرْمى الذين هلك أقرانهم من الناس، فبقوا يذكرون الله تعالى.
توضیح: "المفردون" سے مراد وہ لوگ ہیں جو ذکرِ الٰہی کے لیے تنہائی اختیار کریں یا وہ بوڑھے جن کے ہم عمر فوت ہو چکے ہوں اور وہ ذکر میں مشغول رہیں۔
و"يُهتَرون": يولعون، يقال: أهتر فلان بكذا واستهتر، فهو مُهتَرٌ به، ومستهتَر: أي: مولع به لا يتحدث بغيره، ولا يفعل غيره. انظر "النهاية" و"شرح مسلم".
توضیح: "يُهتَرون" کا مطلب ہے کسی چیز کا بے انتہا گرویدہ ہو جانا کہ اس کے علاوہ کوئی بات نہ کی جائے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1844 سے ماخوذ ہے۔