حدیث نمبر: 1843
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا معاوية بن صالح، حدّثني عمرو بن قيس السَّكُوني، عن عبد الله بن بُسْر: أنَّ أعرابيًا قال لرسول الله ﷺ: إنَّ شرائع الإسلام قد كَثُرَتْ عليَّ، فأنبِئني بشيءٍ أَتشبَّثُ به، فقال: "لا يَزالُ لسانُكَ رَطْبًا من ذِكْرِ الله" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول ﷺ!) بے شک اسلام کے احکام (نفل عبادات و فرائض) مجھ پر بہت زیادہ ہو گئے ہیں، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی (جامع) چیز بتا دیں جسے میں مضبوطی سے تھام لوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے ہمیشہ تر رہنی چاہیے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1843
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 1843] [ترقيم الشركة 1828]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (3793)، والترمذي (3375) من طريقين عن زيد بن الحباب، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن غريب من هذا الوجه.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (3793) اور ترمذی (3375) نے زید بن الحباب کے طریق سے روایت کیا اور ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا ہے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17698) عن عبد الرحمن بن مهدي، وابن حبان (814) من طريق عبد الله بن وهب، كلاهما عن معاوية بن صالح، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (29/17698) اور ابن حبان (814) نے عبدالرحمن بن مہدی اور ابن وہب کے طریقوں سے معاویہ بن صالح سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (17680) من طريق حسان بن نوح، عن عمرو بن قيس، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے حسان بن نوح عن عمرو بن قیس کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1843 سے ماخوذ ہے۔