المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
مَنْ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَتَهُ عِنْدَ اللَّهِ فَلْيَنْظُرْ كَيْفَ مَنْزِلَةُ اللَّهِ عِنْدَهُ باب: جو یہ جاننا چاہے کہ اللہ کے ہاں اس کا مرتبہ کیا ہے وہ دیکھے کہ اس کے دل میں اللہ کا کیا مقام ہے۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا بِشْر بن المُفضَّل، حدثنا عمر بن عبد الله مولى غُفْرة قال: سمعتُ أيوب بن خالد بن صفوان الأنصاريُّ يقول: قال جابر بن عبد الله: خَرَجَ علينا النبي ﷺ فقال: "يا أيها الناس، إنَّ لله سَرَايا من الملائكة تَحُلُّ وتقفُ على مجالس الذِّكر في الأرض، فارتَعُوا في رياض الجنة"، قالوا: وأين رياضُ الجنة يا رسول الله؟ قال: "مجالسُ الذِّكر، فاغْدُوا ورُوحُوا في ذكر الله، وذكِّروه أنفُسَكم، من كان يحبُّ أن يَعلَمَ منزلتَه عند الله، فلينظُر كيف منزلةُ الله عنده، فإنَّ الله يُنزِلُ العبدَ منه حيث أنزَلَه من نفسِه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کے کچھ دستے ایسے ہیں جو زمین میں ذکر کی مجلسوں پر اترتے اور وہاں قیام کرتے ہیں، لہٰذا تم جنت کے باغوں میں چر لیا کرو۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! جنت کے باغ کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ذکر کی مجلسیں جنت کے باغ ہیں، پس تم اللہ کے ذکر میں صبح و شام مصروف رہا کرو اور اپنے نفسوں کو اس کی یاد دلایا کرو۔ جو شخص یہ جاننا چاہتا ہے کہ اللہ کے ہاں اس کا کیا مقام ہے، تو وہ یہ دیکھ لے کہ اس کے اپنے دل میں اللہ کا کیا مقام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے ہاں وہی مقام عطا کرتا ہے جو بندہ اللہ کو اپنے نفس میں دیتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: مولیٰ غفرہ (عمر بن عبداللہ) کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، اور امام ذہبی نے بھی یہی علت بیان کی ہے۔
وهو في "مسند مسدد" كما في "المطالب العالية" (3387/ 1)، ومن طريق مسدد أخرجه الحكيم الترمذي في "نوادر الأصول" (766)، والطبراني في "الدعاء" (1891).
حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند مسدد" میں موجود ہے اور ان کے واسطے سے حکیم ترمذی اور طبرانی نے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد بن حميد (1107)، والبزار (3064 - كشف الأستار)، وأبو يعلى (1865) و (1866) و (2138)، وابن حبان في "المجروحين" 2/ 81، والطبراني في "الدعاء" (1891)، وفي "الأوسط" (2501)، وأبي القاسم بن بشران في "أماليه" (596)، والبيهقي في "الدعوات" (525) من طرق عن بشر بن المفضل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے عبد بن حمید، بزار، ابویعلیٰ، ابن حبان اور بیہقی نے بشر بن المفضل کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد بن منيع في "مسنده" - كما في "المطالب العالية" (3387/ 2) - من طريق إسماعيل بن عياش، والبيهقي في "الدعوات" (6)، وفي "الشعب" (525)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 56/ 79 و 80 من طريق محمد بن شعيب، كلاهما عن عمر بن عبد الله مولى غفرة، به.
قوله: "فارتعوا" من الرَّتَع، وهو الاتساع في الخِصْب.
حوالہ / مصدر: اسے احمد بن منیع، بیہقی اور ابن عساکر نے اسماعیل بن عیاش اور محمد بن شعیب کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
توضیح: قول "فارتعوا" کا مطلب ہے (ذکر کے باغات میں) خوب چرنا اور وسعت پانا۔