المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
يَدْعُو اللَّهُ بِالْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ باب: قیامت کے دن اللہ مؤمن کو پکارے گا۔
أخبرني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفيُّ وأبو محمد عبد الله بن محمد بن موسى العدل، قالا: حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا عبد الأعلى بن حمّاد، حدثنا أبو عاصم العَبّاداني، عن الفضل بن عيسى، عن محمد بن المُنكَدِر، عن جابر بن عبد الله، عن النبيِّ ﷺ قال: "يَدْعو اللهُ بالمؤمن يومَ القيامة حتى يُوقِفَه بين يديه، فيقول: عبدي، إنِّي أَمرتُك أن تَدعُوَني، ووعدتُك أن أستجيبَ لك، فهل كنتَ تَدْعُوني؟ فيقول: نَعَم يا رب، فيقول: أمَا إِنَّك لم تَدْعُني بدعوةٍ إِلَّا استجبتُ لك، أليس دَعَوتَني يومَ كذا وكذا لِغَمٍّ نزل بك أن أفُرِّجَ عنك، ففرَّجتُ عنك؟ فيقول: نعم يا رب، فيقول: فإني عجّلتُها لك في الدنيا، ودَعوتَني يومَ كذا وكذا لِغَمٍّ نزل بك أن أُفرِّج عنك، فلم تَرَ فَرَجًا؟ قال: نعم يا رب، فيقول: إنِّي ادَّخرتُ لك بها في الجنة كذا وكذا، ودَعوتَني في حاجةٍ أَقضيها لكَ في يوم كذا وكذا، فقضيتُها؟ فيقول: نعم يا رب، فيقول: فإنِّي عجَّلتُها لك في الدنيا، ودَعَوتَني في يوم كذا وكذا في حاجةٍ أَقضيها لك، فلم تَرَ قضاءَها؟ فيقول: نعم يا رب، فيقول: إنِّي ادَّخرتُ لك في الجنة كذا وكذا"، قال رسولُ الله ﷺ: "فلا يَدَعُ اللهُ دعوةً دعا بها عبدُه المؤمنُ إلَّا بيَّن له، إمّا أن يكون عَجَّل له في الدنيا، وإمَّا أن يكون ادَّخَر له في الآخرة" قال: "فيقولُ المؤمنُ في ذلك المَقَام: يا ليتَه لم يكن عُجِّل له شيءٌ من دُعائِه" (2).
هذا حديثٌ تفرَّد به الفضل بن عيسى الرَّقَاشي عن محمد المُنكدِر، ومحلُّ الفضل بن عيسى محلُّ من لا يُتَوهَّم بالوضع.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن بندے کو بلائے گا یہاں تک کہ اسے اپنے سامنے کھڑا کر لے گا، پھر فرمائے گا: اے میرے بندے! میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ تو مجھ سے دعا مانگے اور میں نے تجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میں تیری دعا قبول کروں گا، تو کیا تو مجھ سے دعا مانگا کرتا تھا؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں اے میرے رب! پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے (دنیا میں) جو بھی دعا مانگی میں نے اسے تیرے حق میں قبول کر لیا تھا، کیا تو نے فلاں فلاں دن کسی ایسی پریشانی پر مجھ سے دعا نہیں کی تھی جو تجھ پر نازل ہوئی تھی کہ میں اسے دور کر دوں، تو میں نے اسے ٹال دیا تھا؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں اے میرے رب! تو اللہ فرمائے گا: وہ تو میں نے دنیا ہی میں تیرے لیے جلدی پوری کر دی تھی، اور تو نے فلاں فلاں دن کسی ایسی تکلیف پر دعا کی تھی کہ میں اسے دور کر دوں لیکن تو نے اس کا کوئی اثر دنیا میں نہیں دیکھا تھا؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں اے میرے رب! تو اللہ فرمائے گا: میں نے اس کے بدلے تیرے لیے جنت میں فلاں فلاں نعمتیں ذخیرہ کر دی تھیں، اور تو نے فلاں دن مجھ سے کسی ضرورت کے پورا ہونے کی دعا کی تھی تو میں نے اسے پورا کر دیا تھا؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں اے میرے رب! تو اللہ فرمائے گا: وہ میں نے دنیا ہی میں تیرے لیے جلدی پوری کر دی تھی، اور تو نے فلاں فلاں دن مجھ سے اپنی کسی ضرورت کے لیے دعا کی تھی لیکن تو نے اس کا پورا ہونا دنیا میں نہیں دیکھا تھا؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں اے میرے رب! تو اللہ فرمائے گا: میں نے اس کے بدلے جنت میں تیرے لیے فلاں فلاں مرتبے محفوظ کر دیے تھے“، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی مانگی ہوئی ہر دعا کی حقیقت اس پر واضح فرما دے گا، یا تو وہ دنیا میں جلد پوری کر دی گئی ہوگی یا پھر اسے آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیا گیا ہوگا“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس مقام پر (ثواب دیکھ کر) مومن یہ تمنا کرے گا کہ کاش! اس کی دعاؤں میں سے کوئی ایک چیز بھی دنیا میں جلد پوری نہ کی گئی ہوتی۔“
اس حدیث کی روایت میں فضل بن عیسیٰ الرقاشی، محمد بن منکدر سے نقل کرنے میں منفرد ہیں، اور فضل بن عیسیٰ کا مرتبہ ایسا ہے کہ ان پر وضع حدیث کا گمان نہیں کیا جا سکتا۔
تشریح، فوائد و مسائل
العباداني ليِّن الحديث.
درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف ہے۔ فضل بن عیسیٰ الرقاشی کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے اور ابوعاصم العبادانی "لَیِّن الحدیث" (کمزور) ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (1093) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے 'شعب الایمان' (1093) میں امام حاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدينوري في "المجالسة" (126) عن أحمد بن علي المروزي، عن عبد الأعلى بن حماد، به.
حوالہ / مصدر: اسے دینوری نے 'المجالسہ' (126) میں احمد بن علی المروزی کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو نعيم في "الحلية" 6/ 208 من طريق سعيد بن يعقوب، عن أبي عاصم العباداني، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابو نعیم نے 'الحلیہ' (6/208) میں سعید بن یعقوب کے طریق سے روایت کیا ہے۔