المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
الدُّعَاءُ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزَلْ باب: دعا نازل ہونے والی اور نہ نازل ہونے والی دونوں مصیبتوں میں فائدہ دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 1836
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الرحمن بن أبي بكر بن أبي مُلَيكة، عن موسى ابن عُقبة، عن نافع، عن ابن عمر قال: قال رسولُ الله ﷺ: "الدُّعاء يَنفَعُ ممَّا نَزَلَ ومما لم يَنزِلْ، فعليكم عباد الله بالدُّعاء" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دعا ان مصیبتوں میں بھی نفع پہنچاتی ہے جو نازل ہو چکی ہیں اور ان میں بھی جو ابھی نازل نہیں ہوئیں، پس اے اللہ کے بندو! تم دعا کو اپنے اوپر لازم کر لو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن أبي بكر بن أبي مليكة.
درجۂ حدیث: عبدالرحمن بن ابی بکر بن ابی ملیکہ کے ضعف کی وجہ سے سند "ضعیف" ہے۔
وأخرجه الترمذي (3548) عن الحسن بن عرفة، عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. وقال: هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من حديث عبد الرحمن بن أبي بكر القرشي، وهو المكي المليكي، وهو ضعيف في الحديث قد تكلم فيه بعض أهل الحديث من قبل حفظه. قلنا: وقال فيه أحمد والعقيلي: منكر الحديث وقال ابن عدي: لا يتابع في حديثه، وقال النسائي: ليس بثقة، وقال مرةً: متروك الحديث، وقال الذهبي في "تلخيص المستدرك": واهٍ، وخفف الساجي فيه العبارة فقال: صدوق فيه ضعف يحتمل، وقال أبو حاتم: ليس بقوي في الحديث.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3548) نے یزید بن ہارون کی سند سے روایت کیا اور اسے "غریب" کہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عبدالرحمن المليکی حافظے کی وجہ سے ضعیف ہیں۔
راوی پر جرح: امام احمد اور نسائی نے انہیں "منکر الحدیث" اور "متروک" کہا، جبکہ ذہبی نے "واہی" (نہایت کمزور) قرار دیا۔
وحديث عائشة المتقدم برقم (1834) يغني عنه.
اہم نکتہ: حضرت عائشہؓ کی سابقہ حدیث (1834) اس کی جگہ کفایت کرتی ہے۔
درجۂ حدیث: عبدالرحمن بن ابی بکر بن ابی ملیکہ کے ضعف کی وجہ سے سند "ضعیف" ہے۔
وأخرجه الترمذي (3548) عن الحسن بن عرفة، عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. وقال: هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من حديث عبد الرحمن بن أبي بكر القرشي، وهو المكي المليكي، وهو ضعيف في الحديث قد تكلم فيه بعض أهل الحديث من قبل حفظه. قلنا: وقال فيه أحمد والعقيلي: منكر الحديث وقال ابن عدي: لا يتابع في حديثه، وقال النسائي: ليس بثقة، وقال مرةً: متروك الحديث، وقال الذهبي في "تلخيص المستدرك": واهٍ، وخفف الساجي فيه العبارة فقال: صدوق فيه ضعف يحتمل، وقال أبو حاتم: ليس بقوي في الحديث.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3548) نے یزید بن ہارون کی سند سے روایت کیا اور اسے "غریب" کہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عبدالرحمن المليکی حافظے کی وجہ سے ضعیف ہیں۔
راوی پر جرح: امام احمد اور نسائی نے انہیں "منکر الحدیث" اور "متروک" کہا، جبکہ ذہبی نے "واہی" (نہایت کمزور) قرار دیا۔
وحديث عائشة المتقدم برقم (1834) يغني عنه.
اہم نکتہ: حضرت عائشہؓ کی سابقہ حدیث (1834) اس کی جگہ کفایت کرتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1836 سے ماخوذ ہے۔