حدیث نمبر: 1799
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الوارث بن سعيد العَنْبَري، عن عامرٍ الأحول، عن بكر بن عبد الله المُزَني، عن ابن عباس قال: أرادَ رسولُ الله ﷺ الحجَّ، فقالت امرأةٌ لزوجها: حُجَّ بي مع رسول الله ﷺ، فقال: ما عندي ما أُحِجُّكِ عليه، قالت: فحُجَّ بي على ناضِحِك، فقال: ذاك نَعتَقِبُه أنا وولدُك، قالت: فحُجَّ بي على جَمَلِك فلان، قال: ذلك حَبِيسٌ في سبيل الله، قالت: فبِعْ ثَمَرَ رَفِّكَ (1)، قال: ذاك قُوْتِي وقُوتُكِ، قال: فلما رَجَعَ النبيُّ ﷺ من مكة، أرسلَتْ إليه زوجَها، فقالت: أَقرئْ رسولَ الله ﷺ منِّي السلام وسَلْه: ما يَعدِلُ حَجَّةً معك؟ فأتى زوجُها النبيَّ ﷺ فقال: يا رسولَ الله، إِنَّ امرأتي تُقرِئُك السلامَ ورحمةَ الله، وإنها سألَتني أن أحُجَّ بها معك، فقلتُ لها: ليس عندي، قالت: فحُجَّ بي على جملك فلان، فقلت لها: ذلك حَبِيسٌ في سبيل الله، قال النبيُّ ﷺ: "أمَا إِنَّكَ لو كنتَ حَجَجْتَ بها، كان في سبيل الله"، قال: فَضَحِكَ رسول الله ﷺ تعجُّبًا من حِرْصِها على الحج، قال: وإنها أمرَتْني أن أسألك: ما يَعدِلُ حَجَّةً معك؟ قال: "أقرِئْها منِّي السلامَ ورحمةَ الله، وأخبِرْها أنها تَعدِلُ حَجّةً معي عُمرةٌ في رمضان" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شعبان سنة ستٍّ وتسعين:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج کا ارادہ فرمایا تو ایک خاتون نے اپنے شوہر سے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کرواؤ، اس نے کہا: میرے پاس اتنی وسعت نہیں کہ تمہیں حج کروا سکوں، اس نے کہا: مجھے اپنے پانی ڈھونڈنے والے اونٹ پر حج کروا دو، اس نے کہا: اس پر تو میں اور تمہارا بیٹا باری باری سوار ہوتے ہیں، اس نے کہا: اپنے فلاں اونٹ پر حج کروا دو، اس نے کہا: وہ تو اللہ کی راہ کے لیے وقف ہے، اس نے کہا: اپنے مچان پر رکھے ہوئے پھل بیچ دو، اس نے کہا: وہ تو تمہاری اور میری خوراک ہے، چنانچہ جب نبی کریم ﷺ مکہ سے واپس تشریف لائے تو اس خاتون نے اپنے شوہر کو آپ ﷺ کے پاس بھیجا اور کہا: رسول اللہ ﷺ کو میرا سلام کہنا اور ان سے پوچھنا کہ آپ ﷺ کے ساتھ حج کرنے کے برابر کیا چیز ہے؟ وہ شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری بیوی آپ کو سلام اور اللہ کی رحمت پیش کرتی ہے، اس نے مجھ سے آپ کے ساتھ حج کرنے کی فرمائش کی تھی مگر میں نے معذرت کر دی تھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اسے حج کروا دیتے تو وہ بھی اللہ کی راہ میں ہی ہوتا“، راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس خاتون کے حج کے شوق پر تعجب کرتے ہوئے مسکرا دیے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے میرا سلام اور اللہ کی رحمت کہنا اور اسے بتانا کہ رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1799
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل عامر» [ترقيم الرساله 1799] [ترقيم الشركة 1785]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا في (ز)، وفي (ص): فبع تمرك، وفي (ع): فبع تمرتك، وفي "النهاية" في مادة (رفف) كما في (ز): فبع ثمر رفك، وقال في شرحه: الرَّف بالفتح: خشب يُرفع عن الأرض إلى جنب الجدار، يوقى به ما يوضع عليه، وجمعه: رُفوف ورِفاف.
فنی نکتہ: نسخہ (ز) کے مطابق "رفک" (تمہارا تختہ) درست ہے؛ 'النہایہ' میں اس کی وضاحت یوں ہے کہ "الرَّف" دیوار کے ساتھ لگی لکڑی کے تختے کو کہتے ہیں جس پر چیزیں رکھی جاتی ہیں۔
(1) إسناده حسن من أجل عامر - وهو ابن عبد الواحد - الأحول.
درجۂ حدیث: عامر الاحول (ابن عبدالواحد) کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أبو داود (1990) عن مسدد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1990) نے مسدد کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بغير هذه السياقة أحمد 3/ (2025)، والبخاري (1782) و (1863)، ومسلم (1256) من طريق عطاء عن ابن عباس قال: لما رجع النبي ﷺ من حجته قال لأم سنان الأنصارية: "ما منعك من الحج؟ " قالت: أبو فلان - تعني زوجها - كان له ناضحان، حَجَّ على أحدهما، والآخر يسقي أرضًا لنا، قال: "فإنَّ عمرة في رمضان تقضي حجةً" أو "حجةً معي". هكذا ورد اسم الصحابية في "الصحيحين" أنها أم سنان، وهي غير أم معقل السالف حديثها بإسناد ضعيف برقم (1794).
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری (1782) اور مسلم نے عطا عن ابن عباسؓ کی سند سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ام سنان انصاریہؓ سے حج نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے سواری کی کمی کا عذر پیش کیا، جس پر آپ ﷺ نے فرمایا: "رمضان میں عمرہ کرنا ایک حج (یا میرے ساتھ حج) کے برابر ہے"۔
اہم نکتہ: یہ ام سنان ہیں، جو ام معقلؓ (حدیث نمبر 1794) کے علاوہ ہیں۔
وقد ورد الحديث بنحو حديث بكر بن عبد الله المزني عن ابن عباس، من حديث أبي طليق، وفيه أنَّ المرأة التي سألت زوجها هي امرأة أبي طليق، وإسناده صحيح، أخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (2710)، والبزار (1151 - كشف الأستار)، والدولابي في "الكنى والأسماء" 1/ 120، والطبراني في "الكبير" 22/ (816)، وابن الأثير في "أسد الغابة" 6/ 182 - 183، وابن حجر في "الإصابة" 7/ 232 - 233 وزاد نسبته إلى ابن أبي شيبة وابن السكن وابن منده، وقال: إسناده جيد.
درجۂ حدیث: اس موضوع پر ابوطلیقؓ کی اپنی زوجہ کے متعلق روایت بھی "صحیح" ہے، جسے طبرانی، ابن الاثیر اور ابن حجر نے روایت کیا اور اس کی سند کو "جید" قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1799 سے ماخوذ ہے۔