حدیث نمبر: 1648
أخبرني أبو بكر أحمد بن محمد بن بالَويهِ، حدثنا محمد بن رِبْح (1) السَّمّاك، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حماد سلمة، حمُيَد، عن بكر بن عبد الله، عن عبد الله بن رَبَاح، عن أبي قَتادةَ: أنَّ رسولَ اللهِ ﷺ كَان إِذا عَرَّسَ بليلٍ اضطَجَعَ على يمينه، وإذا عَرَّسَ قبل الصُّبح نَصَبَ ذراعيه نَصْبًا، ووضَعَ رأسه على كفِّه (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کے وقت (سفر میں) پڑاؤ ڈالتے تو اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے، اور اگر صبح (فجر) سے ذرا پہلے پڑاؤ ڈالتے تو اپنے بازوؤں کو کھڑا کر لیتے اور اپنا سر مبارک اپنی ہتھیلی پر رکھ لیتے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1648
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،حميد: هو ابن أبي حميد الطويل، وبكر بن عبد الله: هو المزني.» [ترقيم الرساله 1648] [ترقيم الشركة 1637]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) هو براءٍ مكسورة في أوله كما ضبطه الخطيب في "تلخيص المتشابه في الرسم" ص 759، والحافظ ابن حجر في "تبصير المنتبه" 2/ 611.
توضیح: یہ لفظ "بَراء" (با کے نیچے زیر) کے ساتھ ہے جیسا کہ خطیب بغدادی اور حافظ ابن حجر نے صراحت کی ہے۔
(2) إسناده صحيح. حميد: هو ابن أبي حميد الطويل، وبكر بن عبد الله: هو المزني.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
راوی پر جرح: حمید سے مراد ابن ابی حمید الطویل اور بکر بن عبداللہ المزنی ہیں۔
وأخرجه أحمد في آخر حديث طويل 37 / (22546) عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (37/ 22546) نے یزید بن ہارون کی سند سے ایک طویل حدیث کے آخر میں روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22632)، ومسلم (683)، وابن حبان (6438) من طرق عن حماد بن سلمة، به. فاستدراك المصنف له ذهول منه ﵀.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (22632)، مسلم (683) اور ابن حبان (6438) نے حماد بن سلمہ کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: مصنف (حاکم) کا اسے مستدرک میں لانا ان کا سہو ہے کیونکہ یہ صحیح مسلم میں موجود ہے۔
والتعريس: نزول المسافر آخرَ الليل نزلةً للنوم والاستراحة، يقال منه: عَرَّس يعرِّس تعريسًا، ويقال فيه: أعْرَسَ.
اہم نکتہ: "التعريس" کا مطلب ہے مسافر کا رات کے آخری پہر استراحت اور نیند کے لیے کسی جگہ اترنا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1648 سے ماخوذ ہے۔