حدیث نمبر: 1611
حدثني علي بن حَمْشاذَ العدلُ، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شيبة، حدثنا جَرِير، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي سعيدٍ، قال: جاءت امرأةٌ إلى النبي ﷺ ونحن عندَه، فقالت: يا رسول الله، إنَّ زوجي صفوانَ بنَ المُعَطَّل يَضربُني إذا صليتُ، ويُفطِّرُني إذا صُمتُ، ولا يصلِّي صلاةَ الفجر حتى تطلُعَ الشمس، قال: وصفوانُ عندَه، قال: فسألَه عمَّا قالت، فقال: يا رسولَ الله، أمّا قولها: يَضربُني إذا صليتُ، فإنها تقرأُ سورتين نهيتُها عنهما، وقلت: لو كان سورةً واحدةً لكَفَتِ الناس، وأما قولها: يُفطِّرني إذا صمتُ، فإنها تنطلقُ فتصومُ وأنا رجلٌ شابٌّ فلا أصبِر، فقال رسولُ الله ﷺ يومئذٍ: "لا تصومُ امرأةٌ إلَّا بإذنِ زوجها"، وأما قولُها: بأنِّي لا أصلِّي حتى تَطلُعَ الشمس، فإنَّا أهلُ بيتٍ قد عُرِفَ لنا ذاك، لا نكادُ نَستيقظُ حتى تطلع الشمس، قال: "فإذا استَيقظتَ فصَلِّ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی جبکہ ہم آپ کے پاس موجود تھے، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرا شوہر صفوان بن معطل جب میں نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتا ہے، جب میں روزہ رکھتی ہوں تو میرا روزہ تڑوا دیتا ہے، اور وہ سورج نکلنے تک فجر کی نماز نہیں پڑھتا۔“ راوی کہتے ہیں کہ صفوان وہیں موجود تھے، تو آپ ﷺ نے ان سے اس خاتون کی شکایت کے بارے میں پوچھا، انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! جہاں تک اس کے اس قول کا تعلق ہے کہ میں اسے نماز پڑھنے پر مارتا ہوں، تو یہ (نماز میں) ایسی دو لمبی سورتیں پڑھتی ہے جن سے میں نے اسے منع کیا ہے، میں نے اسے کہا کہ اگر ایک ہی سورت پڑھی جائے تو وہ لوگوں کے لیے کافی ہے؛ اور اس کا یہ کہنا کہ میں اس کا روزہ تڑوا دیتا ہوں، تو یہ (نفل) روزے رکھنا شروع کر دیتی ہے جبکہ میں ایک جوان آدمی ہوں اور (اپنی فطری ضرورت پر) صبر نہیں کر پاتا“؛ تو اس دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی عورت (نفل) روزہ نہ رکھے مگر اپنے شوہر کی اجازت سے“؛ اور جہاں تک اس کے اس قول کا تعلق ہے کہ میں سورج نکلنے تک نماز نہیں پڑھتا، تو ہم ایسے گھرانے سے ہیں جس کے بارے میں یہ بات معروف ہے (کہ ہم گہری نیند سوتے ہیں) اور سورج نکلنے تک ہماری آنکھ ہی نہیں کھلتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(صفوان!) جب تم بیدار ہو جایا کرو تو نماز پڑھ لیا کرو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الصوم / حدیث: 1611
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،جرير: هو ابن عبد الحميد، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو صالح: هو ذكوان السمان، وأبو سعيد: هو سعد بن مالك الخدري ﵁.» [ترقيم الرساله 1611] [ترقيم الشركة 1600]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. جرير: هو ابن عبد الحميد، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو صالح: هو ذكوان السمان، وأبو سعيد: هو سعد بن مالك الخدري ﵁.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
راوی پر جرح: جریر (بن عبد الحمید)، الاعمش (سلیمان بن مہران)، ابو صالح (ذکوان السمان) اور صحابی حضرت ابو سعید خدری ؓ اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 18/ (11759)، وأبو داود (2459) عن عثمان بن أبي شيبة، بهذا الإسناد.

وقد وقع عندهما قوله: "لو كانت سورةً واحدةً لكفت الناس" مرفوعًا من كلام النبي ﷺ، وليس من كلام صفوان، وقد تابع عثمانَ بنَ أبي شيبةَ على رفعه غيرُ واحد، ولم تقع لنا هذه العبارة موقوفة إلّا عند الحاكم هنا، وقد رواها هكذا عنه في "السنن الكبرى" 4/ 303، مما يدل على أنَّ وقفها وهمٌ، ولعلَّ الوهم وقع ممن هو دون عثمان بن أبي شيبة، والله أعلم.

علّت / فنی نکتہ: اسے احمد 18/ (11759) اور ابو داود (2459) نے عثمان بن ابی شیبہ کے طریق سے روایت کیا ہے، جہاں "اگر صرف ایک ہی سورت ہوتی تو وہ لوگوں کے لیے کافی تھی" کے الفاظ مرفوعاً نبی ﷺ کے کلام کے طور پر مذکور ہیں، نہ کہ صفوان کے کلام کے طور پر۔ امام حاکم کے علاوہ کسی نے اسے موقوف روایت نہیں کیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں موقوف ہونا وہم ہے، جو غالباً عثمان بن ابی شیبہ سے نچلے کسی راوی سے ہوا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (1488) من طريق أبي خيثمة زهير بن حرب، عن جرير بن عبد الحميد، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (1488) نے ابی خيثمہ زہیر بن حرب عن جریر بن عبد الحمید کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (11801) من طريق أبي بكر بن عياش، عن الأعمش، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (11801) نے ابوبکر بن عیاش عن الاعمش کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرج ابن ماجه (1762) من طريق سليمان بن مهران، عن أبي صالح، عن أبي سعيد الخدري قال: نهى رسول الله ﷺ النساء أن يصلين إلّا بإذن أزواجهن.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1762) نے سلیمان بن مہران عن ابی صالح عن ابی سعید خدری ؓ سے روایت کیا، وہ فرماتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو شوہر کی اجازت کے بغیر (نفلی) نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے"۔
وقد استشكل البخاري هذا الحديث فيما نقله عنه الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 3/ 441 في ترجمة صفوان بن المعطل، واستنكره البزار وأعله بتدليس الأعمش، فيما نقله عنه الحافظ أيضًا في "الفتح" 14/ 35 - 36، وأجاب الحافظ هناك عن هذه الإشكالات فيما يستحق الرجوع إليه.
علّت / فنی نکتہ: امام بخاری نے اس حدیث پر اشکال کیا ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے الإصابة 3/ 441 میں نقل کیا، بزار نے اسے منکر کہا اور اعمش کی تدلیس کی وجہ سے اسے معلول قرار دیا۔ حافظ ابن حجر نے الفتح 14/ 35-36 میں ان اشکالات کے مدلل جوابات دیے ہیں۔
وانظر كلام الطحاوي في ذلك في "شرح مشكل الآثار" (2044).
حوالہ / مصدر: اس بارے میں امام طحاوی کا کلام شرح مشكل الآثار (2044) میں ملاحظہ کریں۔
ولفقه الحديث انظر "معالم السنن" للخطابي 2/ 136.
مجموعی اصول / قاعدہ: اس حدیث کی فقہی تفہیم کے لیے خطابی کی معالم السنن 2/ 136 کی طرف رجوع کریں۔
وفي باب عدم صيام المرأة إلّا بإذن زوجها عن أبي هريرة عند البخاري (5192)، ومسلم (1026).
متابعات و شواہد: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے روزہ نہ رکھنے کے بارے میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت بخاری (5192) اور مسلم (1026) میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1611 سے ماخوذ ہے۔