المستدرك على الصحيحين
كتاب الصوم— روزوں کا بیان
صَوْمُ شَعْبَانَ باب: شعبان کے مہینے کے روزوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1601
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، أنَّ عبد الله بن أبي قيس حدثه، أنه سمع عائشة تقول: كان أحبَّ الشُّهور إلى رسول الله ﷺ أن يصومَه، شعبانُ، ثم يَصِلُه برمضان (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک تمام مہینوں میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ مہینہ جس کے وہ روزے رکھتے تھے وہ شعبان تھا، پھر آپ ﷺ اسے رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه النسائي (2671) و (2922) عن الربيع بن سليمان، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (2671، 2922) نے ربیع بن سلیمان عن عبد اللہ بن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 42/ (25548) - وعنه أبو داود (2431) - عن عبد الرحمن بن مهدي، عن معاوية بن صالح، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (42/ 25548) نے عبدالرحمن بن مہدی سے اور وہیں سے ابو داود (2431) نے معاویہ بن صالح کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 40/ (24116)، والبخاري (1970)، ومسلم (1156) (175)، وأبو داود (2434)، وابن ماجه (1710)، والترمذي (737) والنسائي (2498) من طريق أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن عائشة قالت: لم يكن النبي ﷺ يصوم شهرًا أكثر من شعبان، فإنه كان يصوم شعبان كله، وكان يقول: "خذوا من العمل ما تطيقون، فإنَّ الله لا يملُّ حتى تملُّوا"، واللفظ للبخاري، وانظر تمام تخريجه في التعليق على "المسند".
حوالہ / مصدر: اسے احمد (40/ 24116)، بخاری (1970)، مسلم (1156) اور دیگر کتب میں ابوسلمہ عن عائشہ ؓ کی سند سے روایت کیا گیا کہ: "نبی ﷺ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے... آپ ﷺ فرماتے تھے: اتنے ہی عمل کرو جتنی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ (اجر دینے سے) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم خود (عمل سے) تھک جاؤ"۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه النسائي (2671) و (2922) عن الربيع بن سليمان، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (2671، 2922) نے ربیع بن سلیمان عن عبد اللہ بن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 42/ (25548) - وعنه أبو داود (2431) - عن عبد الرحمن بن مهدي، عن معاوية بن صالح، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (42/ 25548) نے عبدالرحمن بن مہدی سے اور وہیں سے ابو داود (2431) نے معاویہ بن صالح کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 40/ (24116)، والبخاري (1970)، ومسلم (1156) (175)، وأبو داود (2434)، وابن ماجه (1710)، والترمذي (737) والنسائي (2498) من طريق أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن عائشة قالت: لم يكن النبي ﷺ يصوم شهرًا أكثر من شعبان، فإنه كان يصوم شعبان كله، وكان يقول: "خذوا من العمل ما تطيقون، فإنَّ الله لا يملُّ حتى تملُّوا"، واللفظ للبخاري، وانظر تمام تخريجه في التعليق على "المسند".
حوالہ / مصدر: اسے احمد (40/ 24116)، بخاری (1970)، مسلم (1156) اور دیگر کتب میں ابوسلمہ عن عائشہ ؓ کی سند سے روایت کیا گیا کہ: "نبی ﷺ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے... آپ ﷺ فرماتے تھے: اتنے ہی عمل کرو جتنی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ (اجر دینے سے) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم خود (عمل سے) تھک جاؤ"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1601 سے ماخوذ ہے۔