حدیث نمبر: 1597
أخبرَناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحَرَّاني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا محمد بن عبد المجيد المَدِيني، قال: سمعت حمزة بن محمد بن حمزة بن عمرو الأسْلَمي يَذكُر أنَّ أباه أخبره، عن جدِّه حمزة بن عمرو قال: قلتُ: يا رسول الله، إنِّي صاحب ظَهْرٍ أُعالِجُه، أُسافر عليه وأَكْرِيهِ، وإنه ربما صادَفَني هذا الشهرُ - يعني شهرَ رمضان - وأنا أجدُ القُوَّة، وأنا شابٌّ، وأجِدُني أن أصومَ يا رسول الله أهونُ عليَّ من أن أُؤخِّرَه فيكونَ دَينًا، أفأصومُ يا رسول الله أعظمُ لأجري أو أُفطِر؟ قال: "أيَّ ذلك شئتَ يا حمزة" (2).
حافظ طلحہ بابر

حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں سواری کا مالک ہوں جس پر کام کرتا ہوں، سفر کرتا ہوں اور اسے کرایے پر دیتا ہوں، بسا اوقات رمضان کا مہینہ آ جاتا ہے اور میں اپنے اندر قوت پاتا ہوں، میں جوان ہوں اور مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ روزہ رکھنا میرے لیے زیادہ آسان ہے بنسبت اس کے کہ میں اسے مؤخر کروں اور وہ مجھ پر قرض بن جائے، تو اے اللہ کے رسول! کیا میرا روزہ رکھنا میرے اجر کے لیے بڑا ہے یا افطار کرنا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے حمزہ! ان میں سے جو تم چاہو وہی کر لو۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الصوم / حدیث: 1597
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عبد المجيد المديني وشيخه حمزة بن محمد بن حمزة، لكن روي الحديث من وجوه أخرى.» [ترقيم الرساله 1597] [ترقيم الشركة 1586]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عبد المجيد المديني وشيخه حمزة بن محمد بن حمزة، لكن روي الحديث من وجوه أخرى.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، لیکن یہ سند محمد بن عبدالمجید المدینی اور حمزہ بن محمد کی جہالت (عدم معرفت) کی وجہ سے ضعیف ہے، البتہ یہ حدیث دیگر درست سندوں سے مروی ہے۔
وأخرجه أبو داود (2403) عن عبد الله بن محمد النفيلي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (2403) نے عبد اللہ بن محمد النفیلی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 25/ (16037)، والنسائي (2614) و (2615) و (2617) و (2618) و (2620) من طريق سليمان بن يسار، عن حمزة بن عمرو الأسلمي.
حوالہ / مصدر: اسے اسی مفہوم میں احمد (25/ 16037) اور نسائی نے سلیمان بن یسار عن حمزہ بن عمرو الاسلمی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وهذا إسناد منقطع، فإنَّ سليمان بن يسار لم يسمعه من حمزة، بينهما أبو مراوح الغفاري، فقد أخرجه النسائي نفسه (2622) من طريق سليمان بن يسار، عن أبي مراوح، عن حمزة بن عمرو الأسلمي. وأبو مراوح ثقة.
علّت / فنی نکتہ: یہ سند منقطع ہے کیونکہ سلیمان بن یسار نے حمزہ ؓ سے براہ راست نہیں سنا، ان کے درمیان "ابو مراوح الغفاری" کا واسطہ ہے جیسا کہ نسائی (2622) کی دوسری روایت سے واضح ہے۔ ابو مراوح ثقہ ہیں۔
وأخرجه النسائي (2624) من طريق عروة بن الزبير، عن حمزة بن عمرو.

وعروة أيضًا إنما سمعه من أبي مراوح عن حمزة، كما أخرجه مسلم (1121) (107)، والنسائي (2623)، وابن حبان (3567) من طريق عروة بن الزبير، عن أبي مراوح، عن حمزة بن عمرو.

حوالہ / مصدر: نسائی (2624) نے اسے عروہ بن زبیر عن حمزہ ؓ کی سند سے روایت کیا ہے۔
علّت / فنی نکتہ: عروہ نے بھی یہ روایت ابو مراوح سے سنی تھی جیسا کہ مسلم (1121/ 107) اور ابن حبان (3567) کی سندوں سے ثابت ہے۔
وأخرجه النسائي (2619) من طريق أبي سلمة بن عبد الرحمن، و (2620) و (2621) من طريق حنظلة بن علي، كلاهما عن حمزة بن عمرو.
حوالہ / مصدر: نسائی نے اسے ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور حنظلہ بن علی کے طریقوں سے بھی حضرت حمزہ ؓ سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (2616) من طريق سليمان بن يسار: أنَّ حمزة بن عمرو قال: يا رسول الله … فذكره مرسلًا.
سندی اختلاف: نسائی (2616) نے سلیمان بن یسار کی سند سے اسے "مرسل" (نبی ﷺ تک براہ راست) بھی روایت کیا ہے۔
وقد روت عائشة الحديث: أنَّ حمزة بن عمرو سأل رسول الله ﷺ .. أخرجه من حديثها أحمد 40/ (24196)، والبخاري (1942) و (1943)، ومسلم (1121) (103 - 106)، وأبو داود (2402)، والنسائي (2627) و (2628) و (2629)، وابن حبان (3560).
حوالہ / مصدر: حضرت عائشہ ؓ سے بھی یہ روایت مروی ہے کہ حضرت حمزہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا... اسے احمد، بخاری، مسلم، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1597 سے ماخوذ ہے۔