المستدرك على الصحيحين
كتاب الصوم— روزوں کا بیان
أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ باب: پچھنا لگانے والا اور جسے پچھنا لگایا گیا دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1580
حدثنا أبو محمد الحسن بن محمد بن إسحاق الإسفرايِني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا علي بن المَدِيني قال: حديثُ شدّاد بن أوس عن رسول الله ﷺ: أنه رأى رجلًا يَحتجمُ في رمضان، رواه عاصم الأحول عن أبي قِلابةَ عن أبي الأشعث، ورواه يحيى بن أبي كثير عن أبي قِلابةَ عن أبي أسماء عن ثَوْبان، ولا أَرى الحديثين إلَّا صحيحين، فقد يمكن أن يكون سَمِعَه منهما جميعًا. فأما الرُّخصة للحِجَامة للصائم، فقد أخرجه محمد بن إسماعيل البخاري في "الجامع الصحيح".
حافظ طلحہ بابر
امام علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ ﷺ سے یہ روایت کہ آپ ﷺ نے رمضان میں ایک شخص کو پچھنے لگواتے ہوئے دیکھا، اسے عاصم الاحول نے ابو قلابہ کے واسطے سے روایت کیا ہے، اور یحییٰ بن ابی کثیر نے بھی اسے ابو قلابہ کے واسطے سے سیدنا ثوبان سے روایت کیا ہے، اور میں ان دونوں حدیثوں کو صحیح ہی سمجھتا ہوں، کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ابو قلابہ نے یہ حدیث ان دونوں (شداد اور ثوبان) سے سنی ہو۔ رہی بات روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کی اجازت کی، تو اسے امام بخاری نے اپنی ”جامع صحیح“ میں روایت کیا ہے۔