المستدرك على الصحيحين
كتاب الصوم— روزوں کا بیان
الطَّاعِمُ الشَّاكِي مِثْلُ الصَّائِمِ الصَّابِرِ باب: شکر گزار کھانے والا صبر کرنے والے روزہ دار کی مانند ہے۔
حدیث نمبر: 1551
أخبرنا إسماعيل بن نُجَيد بن أحمد بن يوسف السُّلَمي، حدثنا جعفر بن أحمد بن نَصْر الحافظ، حدثنا إسماعيل بن بِشْر بن منصور السُّلَمي، حدثنا عمر بن علي المُقدَّمي، حدثنا مَعْنُ بن محمد الغِفَاري، قال: سمعتُ حنظلةَ بن علي السَّدُوسيَّ (1) يقول: سمعتُ أبا هريرة يقول بهذا البَقيع: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "الطاعمُ الشاكرُ مثلُ الصَّائمِ الصَّابر" (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے بقیع میں رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کھا کر شکر ادا کرنے والا (بندہ اللہ کے نزدیک) اس روزے دار کی طرح ہے جو صبر کرنے والا ہو۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا وقعت نسبته هنا، وهو خطأ، فكل المصادر التي ترجمته نسبته أسلميًّا، وقال بعضهم: سُلَميّ.
توضیح: یہاں ان کی نسبت میں غلطی ہوئی ہے، تمام مصادر انہیں "اسلمی" یا "سُلمی" لکھتے ہیں۔
(2) إسناده حسن من أجل معن بن محمد الغفاري.
درجۂ حدیث: معن بن محمد الغفاری کی وجہ سے یہ سند حسن ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1764) من طريقين عن معن بن محمد الغفاري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1764) نے معن بن محمد الغفاری کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (7377) من طريق معن الغفاري عن سعيد المقبري، وبرقم (7378) من طريق سلمان الأغر، كلاهما عن أبي هريرة.
تفصیلِ روایت: یہ آگے معن الغفاری اور سلمان الاغر کے طریقوں سے حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی احادیث (رقم 7377 اور 7378) میں آئے گی۔
قوله: "الطاعم الشاكر" قال السندي في حاشيته على "مسند أحمد" 13/ (7806): يريد أنَّ المطلوب من العبد الطاعة لله، والقيام بوظائف العبودية له تعالى، لا الصوم بخصوصه، فمن أكل وقام بشكره تعالى، فهو ومن صام وصبر عن الأكل والشرب أو عن المعاصي، وما لا ينبغي أن يُفعل في الصوم، سواءٌ، إذ كلٌّ منهما في الطاعة.
اہم نکتہ: "الطاعم الشاكر" (شکر گزار کھانے والا): علامہ سندی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندے سے اس کی اطاعت اور بندگی کا تقاضا کرتا ہے، محض بھوکا رہنا مقصود نہیں۔ پس جو شخص کھائے اور اللہ کا شکر ادا کرے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو روزہ رکھ کر صبر کرے، کیونکہ دونوں ہی اللہ کی فرمانبرداری میں مصروف ہیں۔
(3) تعقبه الذهبي في "تلخيص المستدرك" بقوله: هذا في "الصحيحين" فلا وجه لاستدراكه. قلنا: بل القول فيه قول الحكم، ولم يخرجاه، وإنما علَّقه البخاري بإثر الحديث (5460) كتاب الأطعمة، باب الطاعم الشاكر مثل الصائم الصابر، قال الحافظ ابن حجر في "الفتح" 16/ 499: هذا من الأحاديث المعلَّقة التي لم تقع في هذا الكتاب - يعني "صحيح البخاري" - موصولة.
توضیح: امام ذہبی نے "تلخیص المستدرک" میں مصنف (حاکم) پر تعاقب کرتے ہوئے کہا کہ: "یہ حدیث صحیحین (بخاری و مسلم) میں ہے، لہٰذا اسے (مستدرک میں) لانے کی ضرورت نہیں تھی"۔ ہم کہتے ہیں: بلکہ اس معاملے میں صحیح قول وہی ہے جو حکم نے کہا کہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، بلکہ امام بخاری نے اسے کتاب الاطعمہ کے باب "الطاعم الشاكر مثل الصائم الصابر" (رقم 5460) کے تحت صرف "معلقاً" ذکر کیا ہے۔ حافظ ابن حجر "الفتح" (16/ 499) میں فرماتے ہیں: "یہ ان معلق احادیث میں سے ہے جو اس کتاب (بخاری) میں متصل سند کے ساتھ واقع نہیں ہوئیں"۔
توضیح: یہاں ان کی نسبت میں غلطی ہوئی ہے، تمام مصادر انہیں "اسلمی" یا "سُلمی" لکھتے ہیں۔
(2) إسناده حسن من أجل معن بن محمد الغفاري.
درجۂ حدیث: معن بن محمد الغفاری کی وجہ سے یہ سند حسن ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1764) من طريقين عن معن بن محمد الغفاري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1764) نے معن بن محمد الغفاری کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (7377) من طريق معن الغفاري عن سعيد المقبري، وبرقم (7378) من طريق سلمان الأغر، كلاهما عن أبي هريرة.
تفصیلِ روایت: یہ آگے معن الغفاری اور سلمان الاغر کے طریقوں سے حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی احادیث (رقم 7377 اور 7378) میں آئے گی۔
قوله: "الطاعم الشاكر" قال السندي في حاشيته على "مسند أحمد" 13/ (7806): يريد أنَّ المطلوب من العبد الطاعة لله، والقيام بوظائف العبودية له تعالى، لا الصوم بخصوصه، فمن أكل وقام بشكره تعالى، فهو ومن صام وصبر عن الأكل والشرب أو عن المعاصي، وما لا ينبغي أن يُفعل في الصوم، سواءٌ، إذ كلٌّ منهما في الطاعة.
اہم نکتہ: "الطاعم الشاكر" (شکر گزار کھانے والا): علامہ سندی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندے سے اس کی اطاعت اور بندگی کا تقاضا کرتا ہے، محض بھوکا رہنا مقصود نہیں۔ پس جو شخص کھائے اور اللہ کا شکر ادا کرے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو روزہ رکھ کر صبر کرے، کیونکہ دونوں ہی اللہ کی فرمانبرداری میں مصروف ہیں۔
(3) تعقبه الذهبي في "تلخيص المستدرك" بقوله: هذا في "الصحيحين" فلا وجه لاستدراكه. قلنا: بل القول فيه قول الحكم، ولم يخرجاه، وإنما علَّقه البخاري بإثر الحديث (5460) كتاب الأطعمة، باب الطاعم الشاكر مثل الصائم الصابر، قال الحافظ ابن حجر في "الفتح" 16/ 499: هذا من الأحاديث المعلَّقة التي لم تقع في هذا الكتاب - يعني "صحيح البخاري" - موصولة.
توضیح: امام ذہبی نے "تلخیص المستدرک" میں مصنف (حاکم) پر تعاقب کرتے ہوئے کہا کہ: "یہ حدیث صحیحین (بخاری و مسلم) میں ہے، لہٰذا اسے (مستدرک میں) لانے کی ضرورت نہیں تھی"۔ ہم کہتے ہیں: بلکہ اس معاملے میں صحیح قول وہی ہے جو حکم نے کہا کہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، بلکہ امام بخاری نے اسے کتاب الاطعمہ کے باب "الطاعم الشاكر مثل الصائم الصابر" (رقم 5460) کے تحت صرف "معلقاً" ذکر کیا ہے۔ حافظ ابن حجر "الفتح" (16/ 499) میں فرماتے ہیں: "یہ ان معلق احادیث میں سے ہے جو اس کتاب (بخاری) میں متصل سند کے ساتھ واقع نہیں ہوئیں"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1551 سے ماخوذ ہے۔