حدیث نمبر: 1464
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا بَهْز بن حَكِيم. وأخبرنا أحمد بن سلمان، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا أبو مَعْمَر، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا بَهز بن حَكِيم، عن أبيه، عن جده، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "في كلِّ إبلٍ سائمةٍ في كلِّ أربعينَ ابنةُ لَبُونٍ، لا تُفرَّق إبلٌ عن حسابها، من أعطاها مُؤتجرًا فله أجرُها، ومن مَنَعَها فإنّا آخِذُوها وشَطْرَ إبلِه، عَزْمةً من عَزَمات ربِّنا، لا يُحِلُّ لآلِ محمدٍ منها شيء" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد على ما قدَّمنا ذِكرَه في صحيح هذه الصحيفة، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بہز بن حکیم اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: "ہر چالیس چرنے والے اونٹوں میں ایک دو سالہ اونٹنی (بنت لبون) واجب ہے، زکوٰۃ کے حساب میں اونٹوں کو الگ الگ نہیں کیا جائے گا؛ جس نے اجر کی نیت سے زکوٰۃ دی اسے اجر ملے گا، اور جو اسے روک لے گا تو ہم اس سے زکوٰۃ بھی وصول کریں گے اور (بطور جرمانہ) اس کے اونٹوں کا آدھا حصہ بھی لیں گے، یہ ہمارے رب کے اٹل فیصلوں میں سے ایک فیصلہ ہے، اور آلِ محمد (ﷺ) کے لیے اس میں سے کچھ بھی حلال نہیں ہے۔"
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن، بهز بن حكيم وأبوه صدوقان. أبو معمر: هو عبد الله بن عمرو المقعد.
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے، بہز بن حکیم اور ان کے والد (حکیم بن معاویہ) دونوں سچے (صدوق) ہیں۔
راوی پر جرح: ابو معمر سے مراد عبداللہ بن عمرو المقعد ہیں۔
وأخرجه أحمد 13/ (20016) و (20038) و (20041) من طرق عن بهز بن حكيم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (13/ 20016، 20038 اور 20041) نے بہز بن حکیم کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے، بہز بن حکیم اور ان کے والد (حکیم بن معاویہ) دونوں سچے (صدوق) ہیں۔
راوی پر جرح: ابو معمر سے مراد عبداللہ بن عمرو المقعد ہیں۔
وأخرجه أحمد 13/ (20016) و (20038) و (20041) من طرق عن بهز بن حكيم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (13/ 20016، 20038 اور 20041) نے بہز بن حکیم کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1464 سے ماخوذ ہے۔