كما أخبرَنيهِ أبو أحمد الحسين بن علي، حدثنا عبد الرحمن بن أبي حاتم، قال: سمعتُ أبي، وسُئِل عن حديث عمرو بن حزمٍ في كتاب رسول الله ﷺ الذي كَتَبَه له في الصدقات، فقال: سليمان بن داود الخَوْلاني عندنا ممن لا بأسَ به. قال أبو محمد بن أبي حاتم: وسمعتُ أبا زُرعة يقول ذلك (1). قال الحاكم: قد بذلتُ ما أدّى إليه الاجتهادُ في إخراج هذه الأحاديث المفسَّرة الملخَّصة في الزَّكَوات، ولا يستغني هذا الكتاب عن شرحها، واستدللتُ على صحتها بالأسانيد الصحيحة عن الخلفاء والتابعين بقَبولها واستعمالها بما فيه غُنْيةٌ لمن تأمَّلها، وقد كان إمامُنا شعبةُ يقول في حديث عُقْبة بن عامر الجُهَني في الوضوء: لَأنْ يَصِحَّ لي مثلُ هذا عن رسول الله ﷺ كان أحبَّ إليَّ من نفسي ومالي وأهلي. وذاك حديث في صلاة التطوع، فكيف بهذه السُّنن التي هي قواعدُ الإسلام، والله الموفِّق وهو حَسْبي ونعم الوكيل.
جیسا کہ عبدالرحمن بن ابی حاتم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا جب ان سے عمرو بن حزم کی اس حدیث کے متعلق پوچھا گیا جو رسول اللہ ﷺ نے انہیں صدقات کے بارے میں لکھ کر دی تھی، تو انہوں نے فرمایا: ہمارے نزدیک سلیمان بن داود الخولانی ایسے راوی ہیں جن میں «لا بأس به» ”کوئی حرج نہیں“ ہے۔ ابومحمد بن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میں نے امام ابوزرعہ کو بھی یہی کہتے سنا۔
امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے زکوٰۃ کے متعلق ان مفصل اور خلاصہ شدہ احادیث کی تخریج میں اپنی پوری علمی کوشش (اجتہاد) صرف کر دی ہے، اور یہ کتاب ان کی شرح سے بے نیاز نہیں ہو سکتی۔ میں نے خلفاء اور تابعین کی جانب سے ان روایات کو قبول کرنے اور ان پر عمل کرنے کے حوالے سے صحیح اسانید کے ذریعے ان کی صحت پر استدلال کیا ہے، جس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے کافی دلیل موجود ہے۔ ہمارے امام شعبہ، عقبہ بن عامر جہنی کی وضو سے متعلق ایک حدیث کے بارے میں فرمایا کرتے تھے: ”اگر رسول اللہ ﷺ سے مروی اس جیسی کوئی روایت میرے نزدیک صحیح ثابت ہو جائے تو وہ مجھے میری جان، مال اور گھر بار سے بھی زیادہ عزیز ہوگی۔“ اور وہ تو نفل نماز سے متعلق ایک حدیث تھی، تو ان سنن و احادیث کا کیا مقام ہوگا جو اسلام کے بنیادی ستون اور قواعد ہیں؟ اللہ ہی توفیق دینے والا ہے اور وہی میرے لیے کافی اور بہترین کارساز ہے۔