المستدرك على الصحيحين
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
مَنْ تَصَدَّقَ مِنْ مَالٍ حَرَامٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ وَكَانَ إِصْرُهُ عَلَيْهِ باب: جو شخص حرام مال سے صدقہ کرے اس کے لیے اس میں کوئی اجر نہیں ہوتا بلکہ اس کا وبال اسی پر رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 1458
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا أحمد بن سَلَمة وإبراهيم بن أبي طالب، قالا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا النَّضْر بن شُمَيل، حدثنا حمَّاد بن سلمة، قال: أخذْنا هذا الكتاب من ثُمامةَ بن عبد الله بن أنس، يُحدِّثُه عن أنس بن مالك، عن رسول الله ﷺ، ثم ذكر الحديث بنحوٍ من حديث موسى بن إسماعيل عن حماد بطوله (1). ولهذه الألفاظ شاهدٌ من حديث الزُّهري عن سالم عن أبيه:
حافظ طلحہ بابر
ثمامہ بن عبداللہ بن انس، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اور وہ رسول اللہ ﷺ سے زکوٰۃ کے بارے میں مذکورہ بالا طویل حدیث روایت کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أحمد بن سلمة: هو ابن عبد الله أبو الفضل النيسابوري، وإسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
راوی پر جرح: احمد بن سلمہ سے مراد ابن عبداللہ ابو الفضل النیشاپوری ہیں، اور اسحاق بن ابراہیم سے مراد ابن راہویہ ہیں۔ اور اس سے ماقبل (گزشتہ روایت) کو ملاحظہ کریں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
راوی پر جرح: احمد بن سلمہ سے مراد ابن عبداللہ ابو الفضل النیشاپوری ہیں، اور اسحاق بن ابراہیم سے مراد ابن راہویہ ہیں۔ اور اس سے ماقبل (گزشتہ روایت) کو ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1458 سے ماخوذ ہے۔