المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي قُبُورِهِمْ فَقُولُوا : بْسِمِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ باب: جب تم اپنے مردوں کو قبروں میں رکھو تو یہ کہو: بسم اللہ اور رسولُ اللہ ﷺ کے دین پر۔
حدیث نمبر: 1370
أخبرَناه عبد الرحمن بن الحَسَن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة. وأخبرني الحسين بن علي، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا بُنْدار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن أبي الصَّدِّيق الناجي، عن ابن عمر: أنه كان إذا وَضَعَ الميِّتَ في قبرِه قال: باسم الله، وعلى سُنَّة رسول الله (1). حديث البَيَاضي - وهو مشهورٌ في الصحابة - شاهدٌ لحديث همَّام عن قتادة مسندًا:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ جب میت کو قبر میں رکھتے تو فرماتے: «بِاسْمِ اللهِ، وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر۔“
بیانی کی حدیث - جو صحابہ میں مشہور ہے - ہمام کی قتادہ سے مروی مسند حدیث کے لیے شاہد ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، على خلاف في رفعه ووقفه، فقد رواه همام بن يحيى عن قتادة فرفعه، كما في الرواية السابقة، ورواه شعبة واختلف عليه، فرواه آدم بن أبي إياس ومحمد بن جعفر عنه كما هو هنا في هذه الرواية فوقفاه، وتابعهما على وقفه عبد الله بن المبارك عن شعبة عند النسائي (10861)، وخالفهم أبو داود الطيالسي، كما عند ابن حبان (319)، فرواه عن شعبة بإسناده فرفعه.
درجۂ حدیث: (1) سند صحیح ہے مگر مرفوع و موقوف ہونے میں اختلاف ہے۔ ہمام نے اسے مرفوع کیا جبکہ شعبہ، ابن المبارک اور آدم بن ابی ایاس نے اسے موقوف روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) سند صحیح ہے مگر مرفوع و موقوف ہونے میں اختلاف ہے۔ ہمام نے اسے مرفوع کیا جبکہ شعبہ، ابن المبارک اور آدم بن ابی ایاس نے اسے موقوف روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1370 سے ماخوذ ہے۔