حدیث نمبر: 1354
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيبة، حدثنا أبو معاوية، حدثنا أبو بُرْدة، عن عَلْقَمة بن مَرْثَد، عن ابن بُرَيدة، عن أبيه قال: لما أَخَذوا في غَسْل رسول الله ﷺ، ناداهم مُنادٍ من الدَّاخل: لا تَنزِعُوا عن رسول الله ﷺ قَميصَه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. وأبو بُرْدةَ هذا: هو بُريدُ بن عبد الله بن أبي بردة بن أبي موسى الأشعري، محتجٌّ به في "الصحيحين" (2).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو غسل دینا شروع کیا تو اندر سے ایک پکارنے والے نے آواز دی: ”رسول اللہ ﷺ کی قمیص مبارک نہ اتارنا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور ان راویوں میں موجود ابو بردہ دراصل برید بن عبداللہ بن ابی بردہ بن ابی موسیٰ اشعری ہیں جو کہ صحیحین کے مرکزی راوی ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1354
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي بردة: وهو عمرو بن يزيد على الراجح. أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير وابن بريدة: هو سليمان، وأبوه هو بريدة بن الحصيب الأسلمي ﵁.» [ترقيم الرساله 1354] [ترقيم الشركة 1342]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي بردة: وهو عمرو بن يزيد على الراجح. أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير وابن بريدة: هو سليمان، وأبوه هو بريدة بن الحصيب الأسلمي ﵁.
درجۂ حدیث: (1) "حسن لغیرہ" ہے؛ سند ضعیف ہے کیونکہ ابوبردہ (عمرو بن یزید) ضعیف ہے۔ ابومعاویہ سے مراد محمد الضریر اور ابن بریدہ سے مراد سلیمان ہیں۔
وانظر ما سلف برقم (1322).
تکرار: یہ پہلے نمبر (1322) پر گزر چکی ہے۔
(2) هذا وهم من المصنف ﵀، بل أبو بردة هذا: هو عمرو بن يزيد، وهو ضعيف، كما بيّنا ذلك في تعليقنا على الرواية السالفة برقم (1322).
علّت / فنی نکتہ: (2) حاکم سے یہاں وہم ہوا ہے، یہ ابوبردہ دراصل عمرو بن یزید ہی ہے جو کہ ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1354 سے ماخوذ ہے۔