المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
أَدْعِيَةُ صَلَاةِ الْجِنَازَةِ باب: نمازِ جنازہ کی دعاؤں کا بیان۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القَزَّاز، حدثنا عمر بن يونُس بن القاسم اليَمَامي، حدثنا عكرمة بن عمَّار، عن يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سَلَمة بن عبد الرحمن، قال: سألتُ عائشةَ أُمّ المؤمنين: كيف كانت صلاةُ رسول الله ﷺ على الميِّت؟ قالت: كان يقول: "اللهمَّ اغفِرْ لحيِّنا وميِّتِنا، وذَكَرِنا وأُنثانا، وشاهدِنا وغائبِنا وصغيرِنا وكبيرِنا، اللهمَّ من أحيَيْتَه منَّا فأحْيِه على الإسلام، ومَن توفَّيْتَه فتوفَّه على الإيمان" (2).
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی میت پر نماز (کی دعا) اس طرح تھی کہ آپ ﷺ فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ» ”اے اللہ! ہمارے زندوں اور ہمارے مردوں، ہمارے مردوں اور ہماری عورتوں، ہمارے حاضر اور ہمارے غائب، اور ہمارے چھوٹوں اور ہمارے بڑوں کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! تو ہم میں سے جسے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے اسے ایمان پر موت دے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (2) سند ضعیف ہے؛ عکرمہ بن عمار کی یحییٰ بن ابی کثیر سے روایات میں اضطراب کی وجہ سے ائمہ نے انہیں ضعیف کہا ہے۔ محمد بن سنان القزاز میں بھی اختلاف ہے مگر ان کی یہاں متابعت موجود ہے۔
وأخرجه الطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (972)، والنسائي (10851) من طرق عن عمر بن يونس اليمامي، بهذا الإسناد. قال الترمذي بإثر الحديث (1024): حديث عكرمة بن عمار غير محفوظ، وعكرمة ربما يهم في حديث يحيى.
حوالہ / مصدر: اسے طحاوی اور نسائی نے عمر بن یونس الیمامی کی سند سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے کہا کہ عکرمہ بن عمار کی یہ روایت محفوظ نہیں ہے۔