حدیث نمبر: 1262
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حذيفة، حدثنا سفيان. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى، عن سفيان، عن أبي بكر بن أبي الجَهْم، عن عبيد الله بن عبد الله بن عُتْبة، عن ابن عباس قال: صلَّى رسول الله ﷺ صلاةَ الخوف بذي قَرَدٍ، فصفَّ خَلفَه صفًّا، وصفًّا موازيَ العدو، فصلَّى معه ركعةً ثم ذهبوا إلى مَصافِّ أولئك، وجاء أولئك إلى مَصافِّ هؤلاء، فصلَّوا مع النبي ﷺ ركعةً ثم سلَّم عليهم (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ.
حافظ طلحہ بابر

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ذی قرد کے مقام پر نماز خوف پڑھائی، پس آپ ﷺ نے اپنے پیچھے ایک صف بنائی اور ایک صف دشمن کے سامنے بنائی، پھر آپ ﷺ نے اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ ان (دوسرے) لوگوں کی جگہ چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ آ گئے، پس انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک رکعت پڑھی، پھر آپ ﷺ نے انہیں سلام پھیر دیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة الخوف / حدیث: 1262
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي، وأبو المثنى: هو معاذ بن المثنى، وانظر ما قبله.» [ترقيم الرساله 1262] [ترقيم الشركة 1251]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي، وأبو المثنى: هو معاذ بن المثنى.

وانظر ما قبله.

درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ ابوحذیفہ سے مراد موسیٰ بن مسعود اور ابومثنیٰ سے مراد معاذ بن مثنیٰ ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1262 سے ماخوذ ہے۔