حدیث نمبر: 12
أخبرَناه أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا قيس بن أُنَيف، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا بشْر بن المفضَّل (2)، عن الجُريري، عن عبد الله بن شَقيق، عن أبي هريرة قال: كان أصحاب رسول الله ﷺ لا يَرَونَ شيئًا من الأعمال تَرْكَه كفرًا غيرَ الصلاة (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 12 - لم يتكلم عليه وإسناده صالح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ (کرام) نماز کے علاوہ کسی بھی عمل کے چھوڑنے کو کفر نہیں سمجھتے تھے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 12
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «صحيح لكن من قول عبد الله بن شقيق بإسقاط أبي هريرة، فقد خُولف فيه قيس بن أُنيف - وهو صالح الحديث - خالفه الترمذي في "جامعه" (2622) عن قتيبة بن سعيد بهذا الإسناد، فجعله من قول عبد الله بن شقيق- ، وتابع الترمذيَّ على ذلك محمدُ بن عبيد بن حِساب ...» [ترقيم الرساله 12] [ترقيم الشركة 12] [ترقيم العلميه 12]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في (ز) و (ص): الفضل، وهو تحريف.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ص) میں نام "الفضل" لکھا گیا ہے، جو کہ تحریف (غلطی) ہے۔
(3) صحيح لكن من قول عبد الله بن شقيق بإسقاط أبي هريرة، فقد خُولف فيه قيس بن أُنيف - وهو صالح الحديث - خالفه الترمذي في "جامعه" (2622) عن قتيبة بن سعيد بهذا الإسناد، فجعله من قول عبد الله بن شقيق.

وتابع الترمذيَّ على ذلك محمدُ بن عبيد بن حِساب وحميدُ بن مَسعَدة عند محمد بن نصر المروزي في "تعظيم قدر الصلاة" (948).

درجۂ حدیث: یہ روایت صحیح ہے لیکن یہ عبد اللہ بن شقیق کا قول (موقوف) ہے جس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ گرا دیا گیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس میں قیس بن انیف (جو کہ صالح الحدیث ہیں) کی مخالفت کی گئی ہے؛ ان کی مخالفت ترمذی نے اپنی "جامع" (2622) میں قتیبہ بن سعید کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ کی ہے اور اسے عبد اللہ بن شقیق کا قول قرار دیا ہے (نہ کہ مرفوع حدیث)۔
متابعات و شواہد: ترمذی کی اس بات پر محمد بن عبید بن حساب اور حمید بن مسعدہ نے متابعت کی ہے جیسا کہ محمد بن نصر المروزی کی کتاب "تعظیم قدر الصلاۃ" (948) میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 12 سے ماخوذ ہے۔