المستدرك على الصحيحين
كتاب صلاة العيدين— عیدین کی نماز کا بیان
الْأَمْرُ بِصِيَامِ رَمَضَانَ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ باب: ایک مسلمان مرد کی گواہی پر رمضان کے روزے رکھنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 1116
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر الأزْديّ، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكرِمة، عن ابن عباس، قال: جاء أعرابيٌّ إلى النبي ﷺ فقال: أبصرتُ الهلالَ الليلةَ، فقال: "أتشهدُ أن لا إله إلا الله وأنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه؟ "، قال: نعم، قال: "قُمْ يا بلالُ فأذِّن في الناس فلْيصوموا" (1). قد احتجَّ البخاريُّ بعكرمة، واحتج مسلمٌ بسماك، و
هذا حديث صحيح الإسناد متداوَلٌ بين الفقهاء، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1104 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میں نے آج رات چاند دیکھا ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! کھڑے ہو جاؤ اور لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ روزہ رکھیں۔“
امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے سماک سے احتجاج کیا ہے، اور یہ صحیح الاسناد حدیث فقہاء کے درمیان مروّج ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنَّ سماكًا في بعض رواياته عن عكرمة - وهو مولي ابن عباس - اضطراب، وقد اختلفوا عليه في هذا الحديث فروي عنه عن عكرمة مرسلًا، ورجَّحه غير واحد من الأئمة، لكن له شاهد يتقوى به كما سيأتي بيانه. زائدة: هو ابن قُدامة.
درجۂ حدیث: (1) یہ "حسن لغیرہ" ہے۔
سندی اختلاف: سماک کی عکرمہ سے روایات میں اضطراب ہے، بعض نے اسے مرسل کہا ہے مگر شواہد کی وجہ سے یہ قوی ہو جاتی ہے۔ زائدہ سے مراد ابن قدامہ ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (1652) من طريق أبي أسامة حماد بن أسامة، عن زائدة بن قدامة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1652) نے ابواسامہ عن زائدہ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (2340)، والترمذي (691) من طريق الوليد بن أبي ثور، عن سماك بن حرب، به. قال الترمذي: وروى سفيان الثوري وغيره عن سماك عن عكرمة عن النبي ﷺ مرسلًا، وأكثر أصحاب سماك رووا عن سماك عن عكرمة عن النبي ﷺ مرسلًا.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (2340) اور ترمذی (691) نے ولید بن ابی ثور عن سماک کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے کہا کہ اکثر راویوں نے اسے مرسل ہی روایت کیا ہے۔
ورواية سفيان الثوري المرسلة عند النسائي في "الكبرى" وسيأتي تخريجها عند الحديث رقم (1558)، ورواه أبو داود من طريق حماد بن سلمة عن سماك عن عكرمة مرسلًا، وسيأتي تخريجه عند الحديث (1560).
حوالہ / مصدر: سفیان ثوری اور حماد بن سلمہ کی مرسل روایات آگے نمبر (1558) اور (1560) پر آئیں گی۔
وسيأتي الحديث أيضًا غير ما ذكرنا برقم (1557) من طريق حسين الجعفي عن زائدة.
تکرار: یہ آگے نمبر (1557) پر حسین الجعفی کے طریق سے بھی آئے گی۔
وله شاهد من حديث عبد الله بن عمر، سيأتي برقم (1555).
متابعات و شواہد: حضرت عبداللہ بن عمر کی حدیث (نمبر 1555) اس کی شاہد ہے۔
قال الترمذي: والعمل على هذا الحديث عند أكثر أهل العلم، قالوا: تُقبَل شهادة رجل واحد في الصيام، وبه يقول ابن المبارك والشافعي وأحمد وأهل الكوفة، قال إسحاق: لا يصام إلّا بشهادة رجلين، ولم يختلف أهل العلم في الإفطار أنه لا يقبل فيه إلّا شهادة رجلين.
مجموعی اصول / قاعدہ: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ روزے (چاند دیکھنے) کے لیے ایک عادل شخص کی گواہی کافی ہے، مگر عید (افطار) کے لیے دو گواہ ضروری ہیں۔
درجۂ حدیث: (1) یہ "حسن لغیرہ" ہے۔
سندی اختلاف: سماک کی عکرمہ سے روایات میں اضطراب ہے، بعض نے اسے مرسل کہا ہے مگر شواہد کی وجہ سے یہ قوی ہو جاتی ہے۔ زائدہ سے مراد ابن قدامہ ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (1652) من طريق أبي أسامة حماد بن أسامة، عن زائدة بن قدامة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1652) نے ابواسامہ عن زائدہ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (2340)، والترمذي (691) من طريق الوليد بن أبي ثور، عن سماك بن حرب، به. قال الترمذي: وروى سفيان الثوري وغيره عن سماك عن عكرمة عن النبي ﷺ مرسلًا، وأكثر أصحاب سماك رووا عن سماك عن عكرمة عن النبي ﷺ مرسلًا.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (2340) اور ترمذی (691) نے ولید بن ابی ثور عن سماک کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے کہا کہ اکثر راویوں نے اسے مرسل ہی روایت کیا ہے۔
ورواية سفيان الثوري المرسلة عند النسائي في "الكبرى" وسيأتي تخريجها عند الحديث رقم (1558)، ورواه أبو داود من طريق حماد بن سلمة عن سماك عن عكرمة مرسلًا، وسيأتي تخريجه عند الحديث (1560).
حوالہ / مصدر: سفیان ثوری اور حماد بن سلمہ کی مرسل روایات آگے نمبر (1558) اور (1560) پر آئیں گی۔
وسيأتي الحديث أيضًا غير ما ذكرنا برقم (1557) من طريق حسين الجعفي عن زائدة.
تکرار: یہ آگے نمبر (1557) پر حسین الجعفی کے طریق سے بھی آئے گی۔
وله شاهد من حديث عبد الله بن عمر، سيأتي برقم (1555).
متابعات و شواہد: حضرت عبداللہ بن عمر کی حدیث (نمبر 1555) اس کی شاہد ہے۔
قال الترمذي: والعمل على هذا الحديث عند أكثر أهل العلم، قالوا: تُقبَل شهادة رجل واحد في الصيام، وبه يقول ابن المبارك والشافعي وأحمد وأهل الكوفة، قال إسحاق: لا يصام إلّا بشهادة رجلين، ولم يختلف أهل العلم في الإفطار أنه لا يقبل فيه إلّا شهادة رجلين.
مجموعی اصول / قاعدہ: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ روزے (چاند دیکھنے) کے لیے ایک عادل شخص کی گواہی کافی ہے، مگر عید (افطار) کے لیے دو گواہ ضروری ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1116 سے ماخوذ ہے۔