المستدرك على الصحيحين
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
الْأَمْرُ بِإِقْصَارِ الْخُطَبِ باب: خطبوں کو مختصر رکھنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 1078
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا محمد بن عبد الله بن سُليمان الحَضْرميّ، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، حدثنا أبي، حدثنا العلاء بن صالح، عن عَدِيِّ بن ثابت، عن أبي راشد، عن عمَّار بن ياسر، قال: أمرَنا رسولُ الله ﷺ بإقصار الخُطَب (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1066 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبات مختصر رکھنے کا حکم فرمایا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کا ایک صحیح شاہد امام مسلم کی شرط پر بھی موجود ہے:
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد فيه لِينٌ من أجل أبي راشد، فقد تفرَّد بالرواية عنه عدي بن ثابت، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال الذهبي في "الميزان": لا يعرف.
وقد اختلف فيه على عدي بن ثابت، فرواه مسعر عنه عن عمار مرسلًا، كما في "علل الدارقطني" (835).
درجۂ حدیث: (3) حدیث صحیح ہے مگر یہ سند ابوراشد کی وجہ سے تھوڑی "لین" (کمزور) ہے کیونکہ ان سے صرف عدی بن ثابت نے روایت کی ہے۔ دارقطنی کے نزدیک مسعر کی روایت میں یہ عمار سے "مرسل" مروی ہے۔
لكن معنى الحديث صحيح من حديث عمار بن ياسر، فسيأتي عند المصنف برقم (5788) بإسناد صحيح من طريق أبي وائل شقيق بن سلمة قال: خطَبَنا عمار بن ياسر فأبلغ وأوجز، فقلنا: يا أبا اليقظان، لقد أبلغت وأوجزت، فقال: إني سمعت رسول الله ﷺ يقول: "إنَّ طول الصلاة وقصر الخطبة مَئِنّةٌ من فقه الرجل، فأطيلوا الصلاة وأقصروا الخطبة". وهو في "صحيح مسلم" وسيأتي تخريجه في موضعه.
اہم نکتہ: حدیث کا معنی حضرت عمار سے صحیح ثابت ہے؛ حاکم کے ہاں نمبر (5788) پر صحیح سند سے آئے گا کہ: "نماز کا لمبا ہونا اور خطبے کا مختصر ہونا انسان کی فقاہت کی علامت ہے" (مسلم)۔
أما حديث أبي راشد فقد أخرجه أبو داود (1106) عن محمد بن عبد الله بن نمير، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: ابوراشد کی حدیث کو ابوداؤد (1106) نے محمد بن عبداللہ بن نمیر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 31/ (18889) عن عبد الله بن نمير، به إلى أبي راشد قال: خطبنا عمار فتجوَّز في خطبته، فقال له رجل من قريش: لقد قلته قولًا شفاءًا، فلو أنك أطلت، فقال: إنَّ رسول الله ﷺ نهى أن نطيل الخطبة.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (18889/31) نے ابن نمیر کی سند سے روایت کیا کہ عمار رضی اللہ عنہ نے مختصر خطبہ دیا تو کسی نے کہا کاش آپ تھوڑا لمبا کرتے، انہوں نے جواب دیا کہ نبی ﷺ نے ہمیں خطبہ لمبا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
وقد اختلف فيه على عدي بن ثابت، فرواه مسعر عنه عن عمار مرسلًا، كما في "علل الدارقطني" (835).
درجۂ حدیث: (3) حدیث صحیح ہے مگر یہ سند ابوراشد کی وجہ سے تھوڑی "لین" (کمزور) ہے کیونکہ ان سے صرف عدی بن ثابت نے روایت کی ہے۔ دارقطنی کے نزدیک مسعر کی روایت میں یہ عمار سے "مرسل" مروی ہے۔
لكن معنى الحديث صحيح من حديث عمار بن ياسر، فسيأتي عند المصنف برقم (5788) بإسناد صحيح من طريق أبي وائل شقيق بن سلمة قال: خطَبَنا عمار بن ياسر فأبلغ وأوجز، فقلنا: يا أبا اليقظان، لقد أبلغت وأوجزت، فقال: إني سمعت رسول الله ﷺ يقول: "إنَّ طول الصلاة وقصر الخطبة مَئِنّةٌ من فقه الرجل، فأطيلوا الصلاة وأقصروا الخطبة". وهو في "صحيح مسلم" وسيأتي تخريجه في موضعه.
اہم نکتہ: حدیث کا معنی حضرت عمار سے صحیح ثابت ہے؛ حاکم کے ہاں نمبر (5788) پر صحیح سند سے آئے گا کہ: "نماز کا لمبا ہونا اور خطبے کا مختصر ہونا انسان کی فقاہت کی علامت ہے" (مسلم)۔
أما حديث أبي راشد فقد أخرجه أبو داود (1106) عن محمد بن عبد الله بن نمير، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: ابوراشد کی حدیث کو ابوداؤد (1106) نے محمد بن عبداللہ بن نمیر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 31/ (18889) عن عبد الله بن نمير، به إلى أبي راشد قال: خطبنا عمار فتجوَّز في خطبته، فقال له رجل من قريش: لقد قلته قولًا شفاءًا، فلو أنك أطلت، فقال: إنَّ رسول الله ﷺ نهى أن نطيل الخطبة.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (18889/31) نے ابن نمیر کی سند سے روایت کیا کہ عمار رضی اللہ عنہ نے مختصر خطبہ دیا تو کسی نے کہا کاش آپ تھوڑا لمبا کرتے، انہوں نے جواب دیا کہ نبی ﷺ نے ہمیں خطبہ لمبا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1078 سے ماخوذ ہے۔