حدیث نمبر: 106
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد السَّمّاك ببغداد، قال: قُرِئَ على عبد الملك بن محمد وأنا أسمع، حدثنا قُريش بن أنس، حدثنا محمد بن عمرو. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا المعتمِر، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَن قبلَكم باعًا فباعًا، وذراعًا فذراعًا، وشِبرًا فشِبرًا، حتى لو دخلوا جُحْرَ ضَبٍّ لدخلتموه معهم" قال: قيل: يا رسول الله، اليهودُ والنصارى؟ قال: "فمَن إذًا؟ " (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 106 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے نقشِ قدم پر بالشت بہ بالشت، ہاتھ بہ ہاتھ اور گز بہ گز ضرور چلو گے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی ان کی پیروی میں اس میں داخل ہو جاؤ گے۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر اور کون؟“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 106
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي» [ترقيم الرساله 106] [ترقيم الشركة 106] [ترقيم العلميه 106]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور محمد بن عمرو بن علقمہ لیثی کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 15/ (9819) و 16/ (10827)، وابن ماجه (3994) من طريقين عن محمد بن عمرو، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 15/(9819) اور 16/(10827) نیز ابن ماجہ (3994) نے محمد بن عمرو کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 14/ (8340) من طريق محمد بن زيد بن المهاجر، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة. وإسناده صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (14/8340) میں محمد بن زید بن مہاجر کے واسطے سے سعید مقبری عن ابی ہریرہ کی سند سے روایت کیا ہے، اور اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 14/ (8308)، والبخاري (7319) من طريق ابن أبي ذئب، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة - لكن ذكر فيه فارس والروم مكان اليهود والنصارى.
حوالہ / مصدر: اسی جیسی روایت امام احمد (8308) اور بخاری (7319) نے ابن ابی ذئب کے طریق سے سعید مقبری عن ابی ہریرہ کی سند سے روایت کی ہے۔
تفصیلِ روایت: تاہم اس روایت میں یہود و نصاریٰ کے بجائے فارس و روم کا ذکر ہے۔
ويشهد له بذكر اليهود والنصارى حديثُ أبي سعيد الخدري عند البخاري (3456) ومسلم (2669).
متابعات و شواہد: یہود و نصاریٰ کے ذکر کی تائید حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے جو صحیح بخاری (3456) اور صحیح مسلم (2669) میں موجود ہے۔
وانظر ما سيأتي عند المصنف برقم (444) و (445) و (8470).
نوٹ / توضیح: مصنف کے ہاں اس موضوع پر مزید روایات نمبر (444)، (445) اور (8470) پر ملاحظہ فرمائیں۔
قال النووي في "شرح مسلم": السَّنَن بفتح السين والنون، وهو الطريق، والمراد بالشِّبر والذراع

وجُحر الضبِّ التمثيل بشدَّة الموافقة لهم، والمراد الموافقة في المعاصي والمخالفات، لا في الكفر.

نوٹ / توضیح: امام نووی "شرح مسلم" میں فرماتے ہیں کہ "السَّنَن" (سین اور نون کے فتحہ کے ساتھ) کا مطلب راستہ ہے۔
اہم نکتہ: بالشت، ہاتھ اور گوہ کے سوراخ کے ذکر سے مراد ان کی مکمل پیروی کی تمثیل ہے، اور اس سے مراد گناہوں اور نافرمانیوں میں ان کی مشابہت ہے، کفر میں نہیں (کیونکہ کفر اختیار کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 106 سے ماخوذ ہے۔