المستدرك على الصحيحين
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
سَاعَةُ الْإِجَابَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کا بیان۔
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبيد الله (2) بن أبي داود المُنادي، حدثنا يونس بن محمد المؤدِّب، حدثنا فُلَيح بن سليمان، عن سعيد بن الحارث، عن أبي سَلَمة قال: قلت: والله لو جئتُ أبا سعيدٍ الخدري فسألتُه عن هذه الساعة، لعلَّه أن يكون عنده منها عِلْم، فأتيتُه فقلت: يا أبا سعيد، إنَّ أبا هريرة حدَّثَنا عن الساعة التي في الجمعة، فهل عندك منها عِلْم؟ فقال: سألنا النبيَّ ﷺ عنها، فقال: "إنِّي كنتُ أعلمُها، ثم أُنسِيتُها كما أُنسيتُ ليلةَ القَدْرِ"، ثم خرجتُ من عنده فدخلت على عبدِ الله بن سَلَام، ثم ذكر الحديث (3). وهذا شاهد صحيح على شرط الشيخين الحديث يزيد بن الهاد ومحمد بن إسحاق، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1033 - صحيحابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے جی میں) کہا: اللہ کی قسم! اگر میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤں اور ان سے اس گھڑی کے بارے میں سوال کروں تو شاید ان کے پاس اس کا کچھ علم ہو، چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور کہا: اے ابوسعید! ابوہریرہ نے ہمیں جمعہ کی اس گھڑی کے بارے میں بتایا ہے، کیا آپ کے پاس اس کا کوئی علم ہے؟ انہوں نے کہا: ہم نے نبی کریم ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وہ گھڑی بتائی گئی تھی پھر مجھے وہ بھلا دی گئی جس طرح مجھے شبِ قدر بھلا دی گئی“، پھر میں ان کے پاس سے نکلا اور عبداللہ بن سلام کے پاس گیا، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
یہ یزید بن الہاد اور محمد بن اسحاق کی حدیث کا صحیح شاہد ہے جو شیخین کی شرط پر ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
فنی نکتہ: (2) نسخوں میں "عبداللہ" ہے جو غلط ہے، درست نام "عُبید اللہ" (تصغیر کے ساتھ) ہے۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل فليح بن سليمان. أبو سلمة: هو ابن عبد الرحمن.
درجۂ حدیث: (3) حدیث صحیح ہے اور فلیح بن سلیمان کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔ ابوسلمہ سے مراد ابن عبدالرحمن ہیں۔
وأخرجه أحمد 16/ (11624) عن يونس بن محمد المؤدب، بهذا الإسناد. وقرن بيونس سريجَ بنَ النعمان.
وانظر ما سلف برقم (1043) و (1044).
حوالہ / مصدر: اسے احمد (11624/16) نے یونس بن محمد المؤدب اور سریج بن نعمان کی سند سے روایت کیا ہے۔