حدیث نمبر: 1023
أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب الطُّوسي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيْوة بن شُرَيح قال: سمعت عُقْبةَ بن مُسلِم التُّجِيبي يقول: حدثني أبو عبد الرحمن الحُبُلي، عن الصُّنَابِحي، عن معاذ بن جبل أنه قال: إنَّ رسول الله ﷺ أَخَذ بيدي يومًا ثم قال: "يا معاذُ، والله إني لَأحبُّك" فقال معاذ: بأبي وأمي يا رسول الله، وأنا والله أحبُّك، فقال: "أُوصِيكَ يا معاذ، لا تَدَعَنَّ في دُبُرِ كلِّ صلاة أن تقول: اللهمَّ أعِنِّي على ذِكْرِك وشُكرِك وحُسْنِ عبادتِك". قال: وأَوصَى بذلك معاذٌ الصُّنابِحيَّ، وأوصى الصُّنابحيُّ أبا عبد الرحمن الحُبُلي، وأَوصى أبو عبد الرحمن عُقْبةَ بن مسلم (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1010 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”اے معاذ! اللہ کی قسم میں تم سے ضرور محبت کرتا ہوں۔“ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، اللہ کی قسم میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم ہر نماز کے آخر میں یہ کلمات کہنا کبھی نہ چھوڑنا: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ» ”اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی بہترین عبادت پر میری مدد فرما۔““ پھر معاذ رضی اللہ عنہ نے اس کی وصیت صنابحی کو کی، صنابحی نے ابو عبدالرحمن حبلی کو اور ابو عبدالرحمن نے عقبہ بن مسلم کو اس کی وصیت فرمائی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 1023
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو عبد الرحمن الحبلي: هو عبد الله بن يزيد المَعَافري، والصُّنابحي: هو أبو عبد الله عبد الرحمن بن عُسيلة» [ترقيم الرساله 1023] [ترقيم الشركة 1015] [ترقيم العلميه 1010]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو عبد الرحمن الحبلي: هو عبد الله بن يزيد المَعَافري، والصُّنابحي: هو أبو عبد الله عبد الرحمن بن عُسيلة.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابوعبدالرحمن الحبلی سے مراد عبداللہ بن یزید اور صنابحی سے مراد ابوعبداللہ عبدالرحمن بن عسیلہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 36/ (22119)، وأبو داود (1522)، والنسائي (9857)، وابن حبان (2020) من طريق عبد الله بن يزيد المقرئ، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (22119/36)، ابوداؤد (1522)، نسائی (9857) اور ابن حبان (2020) نے عبداللہ بن یزید المقرئ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22126)، والنسائي (1227) من طريقين عن حيوة بن شريح، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (22126) اور نسائی نے حیوہ بن شریح کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي مكررًا برقم (5275).
تکرار: یہ آگے نمبر (5275) پر دوبارہ آئے گی۔
وانظر حديث أبي هريرة الآتي برقم (1859).
متابعات و شواہد: حضرت ابوہریرہ کی حدیث آگے نمبر (1859) پر ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1023 سے ماخوذ ہے۔