المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
لَمْ يُهْلِكْ أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ صَلَاتِهِمْ فَصْلٌ باب: اہلِ کتاب اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں کے درمیان کوئی فصل نہ تھا۔
أخبرنا جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي، حدثنا أحمد بن علي الخزَّاز، حدثنا عبد الوهاب بن نَجْدة، حدثنا أشعَثُ بن شُعبة، حدثنا المِنهال بن خَليفة، عن الأزرَق بن قيس قال: صلَّى بنا إمامٌ لنا يُكنَى أبا رِمْثةَ، قال: صلَّيتُ هذه الصلاةَ -أو مثلَ هذه الصلاة- مع رسول الله ﷺ، قال: وكان أبو بكر وعمرُ يقومانِ في الصفِّ المقدَّمِ عن يمينه، وكان رجل قد شَهِدَ التكبيرةَ الأُولى من الصلاة، فصلَّى نبيُّ الله ﷺ ثم سلَّم عن يمينه وعن يساره حتى رأينا بياضَ خدِّه، ثم انفَتَلَ كانفتال أبي رِمْثة -يعني نفسَه- فقام الرجلُ الذي أدرَكَ معه التكبيرةَ الأُولى من الصلاة يَشفَعُ، فوَثَبَ إليه عمرُ فأخذ بمَنكِبِه فهزَّه، ثم قال: اجلِسْ، فإنه لم يَهلِكْ أهلُ الكتاب إلَّا أنه لم يكن بين صَلَواتهم فَصْلٌ، فرفع النبيُّ ﷺ بصرَه فقال: "أصاب اللهُ بك يا ابنَ الخطَّابِ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 996 - المنهال ضعفه ابن معين وأشعث فيه لين والحديث منكرازرق بن قیس کہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے ایک امام نے نماز پڑھائی جن کی کنیت ابورمثہ تھی، انہوں نے کہا کہ میں نے یہ نماز -یا اس جیسی نماز- رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھی تھی، آپ ﷺ کے دائیں جانب پہلی صف میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کھڑے ہوتے تھے، ایک شخص نماز کی تکبیر اولیٰ میں شامل تھا، جب اللہ کے نبی ﷺ نے نماز پڑھ لی اور اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا یہاں تک کہ ہمیں آپ ﷺ کے رخسار مبارک کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر آپ ﷺ اسی طرح مڑے جس طرح ابورمثہ -یعنی خود راوی- مڑے، تو وہ شخص جس نے تکبیر اولیٰ پائی تھی وہ (سنتیں یا نفل) پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لپک کر اس کے پاس پہنچے اور اس کا کندھا پکڑ کر اسے جھنجھوڑا، پھر فرمایا: بیٹھ جاؤ، کیونکہ اہل کتاب اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہوتا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے اپنی نگاہ مبارک اٹھائی اور فرمایا: ”اے خطاب کے بیٹے! اللہ نے تمہارے ذریعے (حق بات) تک پہنچا دیا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) اصل حدیث صحیح ہے مگر یہ سند منہال بن خلیفہ کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ علامہ ذہبی نے اسے "منکر" قرار دیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (1007) عن عبد الوهاب بن نجدة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1007) نے عبدالوہاب بن نجدہ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وخالف عبدُ الله بن سعيد بن أبي هند عند عبد الرزاق (3973)، وشعبةُ بن الحجاج عند أحمد 38/ (23121) وأبي يعلى (7166)، كلاهما عن الأزرق بن قيس، عن عبد الله بن رباح، عن رجل من أصحاب النبي ﷺ: أنَّ رسول الله ﷺ صلَّى العصر، فقام رجل يصلِّي، فرآه عمر فقال له: اجلس فإنما هلك أهلُ الكتاب أنه لم يكن لصلاتهم فصلٌ، فقال رسول الله ﷺ: "أحسَنَ ابنُ الخطَّاب". وهذا إسناد صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی ایک "صحیح سند" موجود ہے جو عبدالرزاق اور شعبہ نے ازرق بن قیس عن عبداللہ بن رباح عن رجل من الصحابہ کی سند سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر نے ایک شخص کو عصر کے فوراً بعد نفل پڑھتے دیکھ کر روکا تاکہ فرض اور نفل میں فرق رہے، جس پر نبی ﷺ نے حضرت عمر کی تائید فرمائی۔