1328 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَيْسَرَانِيُّ، ثنا الْخَرَائِطِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْرَعُ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے جلد قبول ہونے والی دعا غائب کی غائب کے لیے دعا ہے۔“
1329 - أنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأُدْفُوِيُّ، نا أَبُو الطَّيِّبِ، أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُرَيْرِيُّ إِجَازَةً، نا أَبُو جَعْفَرٍ الطَّبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، نا فُرَاتُ بْنُ تَمَامٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَسْرَعُ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”سب سے جلد قبول ہونے والی دعا غائب کی غائب کے لیے دعا ہے۔“
1330 - أنا أَبُو الْقَاسِمِ يَحْيَى بْنُ عَلِيٍّ الصَّوَّافُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَيَّاشُ، نا إِسْحَاقُ، هُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ، نا أَبُو كُرَيْبٍ، نا الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الْإِفْرِيقِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «إِنَّ أَسْرَعَ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے جلد قبول ہونے والی دعا غائب کی غائب کے لیے دعا ہے۔“
وضاحت:
فائدہ: -
صفوان بن عبد الله بن صفوان۔ جن کے نکاح میں درداء بنت ابی درداء تھیں۔ بیان کرتے ہیں کہ میں ملک شام میں اپنے سسرال کے پاس آیا تو مجھے ام درداء گھر میں ملی لیکن ابودرداء نہ ملے۔ ام درداء نے مجھے کہا: کیا تمہارا اس سال حج کرنے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے بھی دعائے خیر کرنا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: "بے شک مسلمان بندے کی دعا اپنے بھائی کے حق میں پیٹھ پیچھے قبول ہوتی ہے، اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے جب بھی یہ اپنے بھائی کے لیے دعائے خیر کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: آمین اور تیرے لیے بھی اس کی مثل ہو۔ " صفوان کہتے ہیں کہ اس کے بعد بازار میں مجھے ابودرداء مل گئے تو انہوں نے اس طرح کہا: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی۔[مسلم: 2733، الادب المفرد: 625]
صفوان بن عبد الله بن صفوان۔ جن کے نکاح میں درداء بنت ابی درداء تھیں۔ بیان کرتے ہیں کہ میں ملک شام میں اپنے سسرال کے پاس آیا تو مجھے ام درداء گھر میں ملی لیکن ابودرداء نہ ملے۔ ام درداء نے مجھے کہا: کیا تمہارا اس سال حج کرنے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے بھی دعائے خیر کرنا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: "بے شک مسلمان بندے کی دعا اپنے بھائی کے حق میں پیٹھ پیچھے قبول ہوتی ہے، اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے جب بھی یہ اپنے بھائی کے لیے دعائے خیر کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: آمین اور تیرے لیے بھی اس کی مثل ہو۔ " صفوان کہتے ہیں کہ اس کے بعد بازار میں مجھے ابودرداء مل گئے تو انہوں نے اس طرح کہا: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی۔[مسلم: 2733، الادب المفرد: 625]