1266 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْقَيْسَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْخَرَائِطِيُّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْمُحَجَّلِ، عَنْ مَعْفَسِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ، عَنِ ابْنِ الشَّنِيَّةِ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ وَحْدَهُ قَاعِدًا فِي الْمَسْجِدِ مُحْتَبِيًا بِكِسَاءٍ مِنْ صُوفٍ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَحْدَةُ خَيْرٌ مِنَ الْجَلِيسِ السُّوءِ، وَالْجَلِيسُ الصَّالِحُ خَيْرٌ مِنَ الْوَحْدَةِ، وَإِمْلَاءُ الْخَيْرِ خَيْرٌ مِنَ السُّكُوتِ، وَالسُّكُوتُ خَيْرٌ مِنْ إِمْلَاءِ الشَّرِّ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
ابن شنیہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو مسجد میں اون کی چادر کے ساتھ گوٹ مارے اکیلے بیٹھے ہوئے دیکھا، تو انہوں نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برے دوست سے تنہائی بہتر ہے اور اچھا دوست تنہائی سے بہتر ہے، بھلائی کی بات لکھوانا خاموشی سے بہتر ہے اور خاموشی برائی کی بات لکھوانے سے بہتر ہے۔“
1267 - وَأَنَاهُ هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا الْقَاضِي أَبُو الْحَسَنِ الْأَذَنِيُّ، نا أَبُو عَرُوبَةَ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
یہ روایت ایک دوسری سند سے بھی بیشم بن جمیل سے ان کی سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔