حدیث نمبر: 1182
1182 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْبَغْدَادِيُّ الْكَاتِبُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبر مشاہدے کی طرح نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 1183
1183 - وأنا أَبُو مُسْلِمٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَانٍ غُنْدَرُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمَأْمُونَ، عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبر مشاہدے کی طرح نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 1184
1184 - وَأَنَاهُ أَبُو مُسْلِمٍ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثَ، قَالَ: قَرَأْنَا عَلَى الْمُؤَمَّلِ بْنِ إِهَابٍ، نا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، نا هُشَيْمُ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، قَالَ يَحْيَى: لَمْ يَسْمَعْهُ هُشَيْمٌ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
یہ حدیث ہشیم سے ان کی سند کے ساتھ ایک دوسرے طرق سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ یحییٰ بن حسان کہتے ہیں کہ ہشیم نے یہ حدیث نہیں سنی۔
وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں ایک اہم نفسیاتی نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ خبر چاہے کتنی ہی یقینی ہو مگر اس کا اثر مشاہدے کی طرح نہیں ہوتا۔ مشاہدہ اور نظارہ کی دل پر تاثیر ہی عجیب ہوتی ہے مثلاً: اگر کسی کو یہ خبر دی جائے کہ فلاں جگہ حادثہ رونما ہوا ہے تو اس شخص کا پریشان اور متفکر ہو جانا ایک فطری عمل ہے لیکن اس کے مقابلے میں دل و دماغ نظر پر وہ فکر اور پریشانی کہیں زیادہ سخت اور سریع الاثر ہوتی ہے جو اس حادثے کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کی صورت میں لاحق ہوتی ہے اس لیے فرمایا کہ کسی چیز کے بارے میں خبر مشاہدے یعنی اسے آنکھوں سے دیکھنے کی طرح نہیں ہے۔
ان احادیث میں ایک اہم نفسیاتی نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ خبر چاہے کتنی ہی یقینی ہو مگر اس کا اثر مشاہدے کی طرح نہیں ہوتا۔ مشاہدہ اور نظارہ کی دل پر تاثیر ہی عجیب ہوتی ہے مثلاً: اگر کسی کو یہ خبر دی جائے کہ فلاں جگہ حادثہ رونما ہوا ہے تو اس شخص کا پریشان اور متفکر ہو جانا ایک فطری عمل ہے لیکن اس کے مقابلے میں دل و دماغ نظر پر وہ فکر اور پریشانی کہیں زیادہ سخت اور سریع الاثر ہوتی ہے جو اس حادثے کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کی صورت میں لاحق ہوتی ہے اس لیے فرمایا کہ کسی چیز کے بارے میں خبر مشاہدے یعنی اسے آنکھوں سے دیکھنے کی طرح نہیں ہے۔